3113 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِىُّ حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ الدِّمَشْقِىُّ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِى كَثِيرٍ عَنْ أَبِى سَلَمَةَ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ أَنَّ خُزَاعَةَ قَتَلُوا رَجُلاً مِنْ بَنِى لَيْثٍ عَامَ فَتْحِ مَكَّةَ بِقَتِيلٍ مِنْهُمْ قَتَلُوهُ فَأُخْبِرَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَرَكِبَ رَاحِلَتَهُ فَخَطَبَ وَقَالَ « إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى حَبَسَ عَنْ مَكَّةَ الْفِيلَ وَسَلَّطَ عَلَيْهَا رَسُولَهُ وَالْمُؤْمِنِينَ أَلاَ وَإِنَّهَا لَمْ تَحِلَّ لأَحَدٍ قَبْلِى وَلاَ تَحِلُّ لأَحَدٍ بَعْدِى أَلاَ وَإِنَّهَا أُحِلَّتْ لِى سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ أَلاَ وَإِنَّهَا سَاعَتِى هَذِهِ حَرَامٌ لاَ يُخْتَلَى خَلاَهَا وَلاَ يُعْضَدُ شَجَرُهَا وَلاَ تُلْتَقَطُ سَاقِطَتُهَا إِلاَّ لِمُنْشِدٍ فَمَنْ قُتِلَ لَهُ قَتِيلٌ فَهُوَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ إِمَّا أَنْ يُقْتَلَ وَإِمَّا أَنْ يُفَادَى أَهْلُ الْقَتِيلِ ». فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ فَقَالَ اكْتُبْ لِى يَا رَسُولَ اللَّهِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « اكْتُبُوا لأَبِى فُلاَنٍ ». فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ إِلاَّ الإِذْخِرَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَإِنَّا نَجْعَلُهُ فِى بُيُوتِنَا وَقُبُورِنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « إِلاَّ الإِذْخِرَ »
3113 ۔ حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں : خزاعہ قبیلہ کے لوگوں نے فتح مکہ کے سال اپنے ایک مقتول کے بدلہ میں بنولیث کے ایک فرد کو قتل کردیا، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس بارے میں بتایا گیا تو آپ اپنی سواری پر سوار ہوئے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا :
'' اللہ تعالیٰ نے ہاتھیوں کو مکہ میں داخل نہیں ہونے دیا لیکن اسنے اپنے رسول اور اہل ایمان کو اس پر تسلط عطا کی ایاد رکھنا یہ مجھ سے پہلے کسی کے لیے حلال نہیں تھا، اور میرے بعد کسی کے لیے حلال نہیں ہوگا، یاد رکھنا ! یہ میرے لیے بھی دن کے ایک مخصوص حصہ تک حلال ہوا، اب اس وقت یہ حرم ہے ، یہاں کے کانٹے کو توڑا نہیں جاسکتا، یہاں کے درخت کو کاٹا نہیں جاسکتا، یہاں کی گری ہوئی چیز کو اٹھایا نہیں جاسکتا، البتہ اعلان کرنے کے لیے اٹھایا جاسکتا ہے ، اگر کسی شخص کا کوئی عزیز قتل ہوجائے تو اسے دو باتوں میں سے ایک کا اختیار ہوگا یا تو (قاتل کو قصاص میں) قتل کردیا جائے یامقتولین کے لواحقین کو دیت ادا کردی جائے۔
(راوی بیان کرتے ہیں ) یمن سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب آئے اور انھوں نے عرض کی : یارسول اللہ یہ مجھے لکھوادیں، تو نبی نے فرمایا ابوفلاں کو لکھ کردے دو۔ قریش سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے عرض کی یارسول اللہ : آپ اذخر (کاٹنے کی اجازت دیں) کیونکہ ہم اسے اپنے گھروں اور قبروں میں استعمال کرتے ہیں : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اذخر (کاٹنے کی اجازت ہے) ۔