hadith book logo

Sunan Al Daraqutni: Hadith 3114

.

سنن الدارقطني

3114
Sunan Al Daraqutni
3114 - حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ حَدَّثَنَا أَبِى عَنْ حَجَّاجٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ مُسْلِمٍ الأَحْرَدِ عَنْ مَالِكٍ الأَشْتَرِ قَالَ أَتَيْتُ عَلِيًّا رضى الله عنه فَقُلْتُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ إِنَّا إِذَا خَرَجْنَا مِنْ عِنْدِكَ سَمِعْنَا أَشْيَاءَ فَهَلْ عَهِدَ إِلَيْكُمْ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- شَيْئًا سِوَى الْقُرْآنِ قَالَ لاَ إِلاَّ مَا فِى هَذِهِ الصَّحِيفَةِ فِى عِلاَقَةِ سَيْفِى فَدَعَا الْجَارِيَةَ فَجَاءَتْ بِهَا قَالَ « إِنَّ إِبْرَاهِيمَ حَرَّمَ مَكَّةَ وَأَنَا أُحَرِّمُ الْمَدِينَةَ فَهِىَ حَرَامٌ مَا بَيْنَ حَرَّتَيْهَا أَنْ لاَ يُعْضَدَ شَوْكُهَا وَلاَ يُنَفَّرَ صَيْدُهَا فَمَنْ أَحْدَثَ حَدَثًا أَوْ آوَى مُحْدِثًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلاَئِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ وَالْمُؤْمِنُونَ يَدٌ عَلَى مَنْ سِوَاهُمْ تَكَافَأُ دِمَاؤُهُمْ وَيَسْعَى بِذِمَّتِهِمْ أَدْنَاهُمْ لاَ يُقْتَلُ مُسْلِمٌ بِكَافِرٍ وَلاَ ذُو عَهْدٍ فِى عَهْدِهِ ».قَالَ حَجَّاجٌ وَحَدَّثَنِى عَوْنُ بْنُ أَبِى جُحَيْفَةَ عَنْ أَبِى جُحَيْفَةَ عَنْ عَلِىٍّ مِثْلَهُ إِلاَّ أَنْ يَخْتَلِفَ مَنْطِقُهُمَا فِى الشَّىْءِ فَأَمَّا الْمَعْنَى فَوَاحِدٌ.
3114 ۔ مالک اشتر بیان کرتے ہیں : میں حضرت علی (رض) کی خدمت میں حاضرہوا میں نے کہا : اے امیرالمومنین ! جب ہم آپ کے پاس سے اٹھ کرگئے تو ہم نے کچھ باتیں سنی ہیں ، کیا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قرآن کے علاوہ کوئی اور چیز بطور خاص آپ کو دی ؟ تو حضرت علی (رض) نے فرمایا : نہیں صرف یہ صحیفہ ہے جو میری تلوار کے دستے میں ہے ، پھر حضرت علی (رض) نے کنیز کو بلایا تو وہ اس صحیفے کو لے کر آئی (اس میں یہ تحریر تھا : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ) ارشاد فرمایا ہے :
'' بیشک حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے مکہ کو حرم قرار دیا تھا، اور میں مدینہ کو حرم قرار دیتاہوں ، دونوں طرف کی سنگلاح زمین کے درمیان موجود (مدینہ منورہ) حرم ہے۔ یہاں کے کانٹے کو توڑا نہیں جاسکتا، یہاں کے شکار کو بھگایا نہیں جاسکتا، جو شخص یہاں کوئی بدعت ایجاد کرے یا کسی بدعتی کو پناہ دے تو اس پر اللہ اس کے فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہوگی۔ دوسروں کے مقابلے میں تمام اہل ایمان ایک ہاتھ کی مانند ہیں ان کے خون یکساں اہمیت کے حامل ہیں ان کے کسی عام فرد کی دی ہوئی پناہ کو تسلیم کیا جائے گا اور کسی مسلمان کو کسی کافر کے بدلہ میں قتل نہیں کیا جاسکتا۔
ابوحجیفہ نے حضرت علی (رض) کے حوالے سے اسی کی مانند نقل کیا ہے ، اس کے الفاظ کچھ مختلف ہیں تاہم مفہوم ایک ہی ہے۔