3115 - حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدٍ الْقَاسِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْمَحَامِلِىُّ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الصَّائِغُ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ قَالَ حَدَّثَنِى مُوسَى بْنُ عُلَىِّ بْنِ رَبَاحٍ اللَّخْمِىُّ قَالَ سَمِعْتُ أَبِى يَقُولُ إِنَّ أَعْمَى كَانَ يُنْشِدُ فِى الْمَوْسِمِ فِى خِلاَفَةِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رضى الله عنه وَهُوَ يَقُولُ: أَيُّهَا النَّاسُ لَقِيتُ مُنْكَرَا هَلْ يَعْقِلُ الأَعْمَى الصَّحِيحَ الْمُبْصِرَا خَرَّا مَعًا كِلاهُمَا تَكَسَّرَا وَذَلِكَ أَنَّ الأَعْمَى كَانَ يَقُودُهُ بَصِيرٌ فَوَقَعَا فِي بِئْرٍ ، فَوَقَعَ الأَعْمَى عَلَى الْبَصِيرِ فَمَاتَ الْبَصِيرُ , فَقَضَى عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِعَقْلِ الْبَصِيرِ عَلَى الأَعْمَى " .
3115 ۔ موسیٰ بن علی بیان کرتے ہیں : میں نے اپنے والد کوسنا ہے حضرت عمر (رض) کے عہد خلافت میں حج کے موقع پر ایک شخص بلند آواز میں (یہ اشعار پڑھ رہا تھا) ۔
'' اے لوگو ! ایک غلط صورت حال میرے سامنے آئی ہے کیا ایک اندھاشخص ایک صحیح دیکھنے والے شخص کی دیت ادا کرے گا، جب کہ وہ دونوں ایک ساتھ گرے تھے اور دونوں زخمی ہوئے تھے۔
اس کی صورت یوں ہوئی کہ ایک بینا شخص اس اندھے کو ساتھ کرلے جارہا تھا، وہ دونوں ایک کنوئیں میں گرگئے تو وہ نابینا شخص اس بینا شخص کے اوپرگرا جس کے نتیجے میں وہ بینا شخص فوت ہوگیا، تو حضرت عمر (رض) نے یہ فیصلہ دیا، وہ نابینا اس بیناشخص کی دیت ادا کرے گا۔