hadith book logo

Sunan Al Daraqutni: Hadith 314

.

سنن الدارقطني

314
Sunan Al Daraqutni
314 - حَدَّثَنَا الْقَاضِى الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ وَالْحَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ وَاللَّفْظُ لأَبِى الْوَلِيدِ قَالاَ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِى طَلْحَةَ عَنْ عَلِىِّ بْنِ يَحْيَى بْنِ خَلاَّدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَمِّهِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ قَالَ كَانَ رِفَاعَةُ وَمَالِكُ بْنُ رَافِعٍ أَخَوَيْنِ مِنْ أَهْلِ بَدْرٍ قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ جُلُوسٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَوْ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- جَالِسٌ وَنَحْنُ حَوْلَهُ إِذْ دَخَلَ عَلَيْهِ رَجُلٌ فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ وَصَلَّى فَلَمَّا قَضَى الصَّلاَةَ جَاءَ فَسَلَّمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَعَلَى الْقَوْمِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « وَعَلَيْكَ ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ ». فَجَعَلَ الرَّجُلُ يُصَلِّى وَنَحْنُ نَرْمُقُ صَلاَتَهُ لاَ نَدْرِى مَا يَعِيبُ مِنْهَا فَلَمَّا صَلَّى جَاءَ فَسَلَّمَ عَلَى النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- وَعَلَى الْقَوْمِ فَقَالَ لَهُ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- « وَعَلَيْكَ ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ ». قَالَ هَمَّامٌ فَلاَ أَدْرِى أَمَرَهُ بِذَلِكَ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلاَثًا فَقَالَ الرَّجُلُ مَا أَلَوْتُ فَلاَ أَدْرِى مَا عِبْتَ عَلَىَّ مِنْ صَلاَتِى فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « إِنَّهَا لاَ تَتِمُّ صَلاَةُ أَحَدِكُمْ حَتَّى يُسْبِغَ الْوُضُوءَ كَمَا أَمَرَهُ اللَّهُ فَيَغْسِلُ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ وَيَمْسَحُ بِرَأْسِهِ وَرِجْلَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ ثُمَّ يُكَبِّرُ اللَّهَ وَيُثْنِى عَلَيْهِ ثُمَّ يَقْرَأُ أُمَّ الْقُرْآنِ وَمَا أُذِنَ لَهُ فِيهِ وَتَيَسَّرَ ثُمَّ يُكَبِّرُ فَيَرْكَعُ وَيَضَعُ كَفَّيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ حَتَّى تَطْمَئِنَّ مَفَاصِلُهُ وَتَسْتَرْخِىَ وَيَقُولُ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ وَيَسْتَوِى قَائِمًا حَتَّى يُقِيمَ صُلْبَهُ وَيَأْخُذَ كُلُّ عَظْمٍ مَأْخَذَهُ ثُمَّ يُكَبِّرُ فَيَسْجُدُ فَيُمَكِّنُ وَجْهَهُ - قَالَ هَمَّامٌ وَرُبَّمَا قَالَ جَبْهَتَهُ - فِى الأَرْضِ حَتَّى تَطْمَئِنَّ مَفَاصِلُهُ وَتَسْتَرْخِىَ ثُمَّ يُكَبِّرُ فَيَسْتَوِى قَاعِدًا عَلَى مَقْعَدَتِهِ وَيُقِيمُ صُلْبَهُ ». فَوَصَفَ الصَّلاَةَ هَكَذَا أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ حَتَّى فَرَغَ ثُمَّ قَالَ « لاَ تَتِمُّ صَلاَةُ أَحَدِكُمْ حَتَّى يَفْعَلَ ذَلِكَ ».
حضرت رفاعہ بن رافع (رض) کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : حضرت رفاعہ (رض) اور حضرت مالک بن رافع (رض) یہ دونوں بھائی ہیں اور غزوہ بدر میں شریک ہوئے ہیں۔ حضرت رافع (رض) بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ہم نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھے ہوئے تھے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں :) ایک مرتبہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف فرما تھے، ہم آپ کے ارد گرد موجود تھے، اسی دوران ایک شخص وہاں آیا۔ اس نے قبلے کی طرف رخ کرکے نماز ادا کی ، جب اس نے نماز مکمل کرلی تو آکر اس نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سلام کیا اور حاضرین کو بھی سلام کیا۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے فرمایا : تم پر لازم ہے، تم واپس جاؤ اور جاکر نماز ادا کرو، کیونکہ تم نے درحقیقت نماز ادا نہیں کی، اس شخص نے پھر نماز ادا کرنا شروع کی، ہم اس کی نماز کا غور سے جائزہ لیتے رہے، ہمیں سمجھ نہیں آئی کہ اس نے کیا غلطی کی ہے ؟ جب اس نے نماز ادا کرلی تو وہ آیا اور نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور حاضرین کو سلام کیا۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے فرمایا : تم پر لازم ہے ، تم جاؤ اور جاکر دوبارہ نماز ادا کرو، تم نے درحقیقت نماز ادا نہیں کی۔
ہمام نامی راوی بیان کرتے ہیں : مجھے یہ پتہ نہیں ہے، حدیث میں کیا مذکور ہے، نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے دو مرتبہ اس بات کی ہدایت کی یا تین مرتبہ ہدایت کی، پھر اس شخص نے عرض کی : میں نے کیا کمی کی ہے ؟ مجھے یہ نہیں پتہ چل سکا کہ آپ میری نماز کے کس حصے کو غلط قرار دے رہے ہیں ؟ تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : کسی بھی شخص کی نماز اس وقت تک مکمل نہیں ہوتی، جب تک وہ اچھی طرح سے اسی طرح وضو نہیں کرلیتا جیسے اللہ تعالیٰ نے اسے حکم دیا ہے، آدمی پہلے اپنے چہرے کو دھوئے، پھر دونوں بازؤ وں کو کہنیوں تک دھوئے، پھر اپنے سر کا مسح کرے، دونوں پاؤں ٹخنوں تک دھوئے، اللہ تعالیٰ کی کبریائی کا ذکر کرے، اس کی ثناء بیان کرے، پھر سورة فاتحہ پڑھے پھر جو اس کے نصیب میں ہوا، اسے آسان لگے (قرآن کے کچھ حصے) کی تلاوت کرے، پھر تکبیر کہے اور رکوع میں جائے، اور اپنے دونوں ہاتھ گھٹنوں پر رکھے، یہاں تک کہ اس کے جوڑ مطمئن ہوجائیں اور کشادہ رہیں ، پھر وہ ” سمع اللہ لمن حمدہ “ پڑھے اور سیدھا کھڑا ہوجائے، یہاں تک کہ اس کی پشت سیدھی ہوجائے، اور ہر ہڈی اپنی جگہ پر آجائے، پھر وہ تکبیر کہہ کر سجدے میں چلا جائے، اور اپنی پیشانی کو جما کر رکھے۔
ہمام نامی راوی نے یہاں بعض اوقات یہ لفظ نقل کیے ہیں : اپنی پیشانی زمین پر رکھے ، یہاں تک کہ اس کے جوڑ اطمینان کی حالت میں آجائیں اور کشادہ ہوجائیں، پھر وہ تکبیر کہتے ہوئے اپنی سرین کے بل بیٹھ جائے، اور اپنی پشت کو سیدھا رکھے۔
اس کے بعد انھوں نے چاروں رکعات میں نماز کے طریقے کو اسی طرح بیان کیا، یہاں تک کہ اسے مکمل بیان کردیا اور (نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے) یہ ارشاد فرمایا : ” کسی بھی شخص کی نماز اس وقت تک مکمل نہیں ہوتی جب تک وہ ایسا نہ کرے “۔