hadith book logo

Sunan Al Daraqutni: Hadith 315

.

سنن الدارقطني

315
Sunan Al Daraqutni
315 - حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمَّادٍ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ حَدَّثَنِى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ أَنَّ عَلِىَّ بْنَ الْحُسَيْنِ أَرْسَلَهُ إِلَى الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذٍ يَسْأَلُهَا عَنْ وُضُوءِ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَتْ إِنَّهُ كَانَ يَأْتِيهِنَّ وَكَانَتْ تُخْرِجُ لَهُ الْوَضُوءَ - قَالَ - فَأَتَيْتُهَا فَأَخْرَجَتْ إِلَىَّ إِنَاءً فَقَالَتْ فِى هَذَا كُنْتُ أُخْرِجُ الْوَضُوءَ لِرَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَيَبْدَأُ فَيَغْسِلُ يَدَيْهِ قَبْلَ أَنْ يُدْخِلَهُمَا ثَلاَثًا ثُمَّ يَتَوَضَّأُ فَيَغْسِلُ وَجْهَهُ ثَلاَثًا ثُمَّ يُمَضْمِضُ ثَلاَثًا وَيَسْتَنْشِقُ ثَلاَثًا ثُمَّ يَغْسِلُ يَدَيْهِ ثُمَّ يَمْسَحُ بِرَأْسِهِ مُقْبِلاً وَمُدْبِرًا ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ. قَالَتْ وَقَدْ أَتَانِى ابْنُ عَمٍّ لَكَ - تَعْنِى ابْنَ عَبَّاسٍ - فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ مَا أَجِدُ فِى الْكِتَابِ إِلاَّ غَسْلَتَيْنِ وَمَسْحَتَيْنِ فَقُلْتُ لَهَا فَبِأَىِّ شَىْءٍ كَانَ الإِنَاءُ قَالَتْ قَدْرَ مُدٍّ بِالْهَاشِمِىِّ أَوْ مُدٍّ وَرُبُعٍ. قَالَ الْعَبَّاسُ بْنُ يَزِيدَ هَذِهِ الْمَرْأَةُ حَدَّثَتْ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- أَنَّهُ بَدَأَ بِالْوَجْهِ قَبْلَ الْمَضْمَضَةِ وَالاِسْتِنْشَاقِ وَقَدْ حَدَّثَ أَهْلُ بَدْرٍ مِنْهُمْ عُثْمَانُ وَعَلِىٌّ رضى الله عنهما أَنَّهُ بَدَأَ بِالْمَضْمَضَةِ وَالاِسْتِنْشَاقِ قَبْلَ الْوَجْهِ وَالنَّاسُ عَلَيْهِ.
امام زین العابدین (رض) نے سیدہ ربیع بنت معوذ (رض) کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے : انھوں نے سیدہ ربیع (رض) سی نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وضو کے طریقے کے بارے میں دریافت کیا تو سیدہ ربیع (رض) نے جواب دیا : نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے ہاں تشریف لایا کرتے تھے تو وہ خاتون نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے وضو کا پانی رکھا کرتی تھیں۔ امام زین العابدین (رض) بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ میں اس خاتون کے پاس آیا تو انھوں نے میرے سامنے برتن نکالا اور بتایا : اس برتن میں، میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وضو کرنے کے لیے پانی نکالا کرتی تھی، نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وضو کے آغاز میں دونوں ہاتھوں کو برتن میں داخل کرنے سے پہلے تین مرتبہ دھویا، پھر آپ نے وضو شروع کیا اور اپنے چہرے کو تین مرتبہ دھویا، پھر تین مرتب کلی کی، پھر تین مرتبہ ناک میں پانی ڈالا، دونوں بازؤ وں کو دھویا، پھر اپنے سر کا آگے سے پیچھے کی طرف اور پیچھے سے آگے کی طرف مسح کیا، پھر دونوں پاؤں کو دھو لیا، پھر اس خاتون نے بتایا : میرے پاس تمہارے چچا زاد بھی آئے تھے، اس خاتون کی مراد حضرت عبداللہ بن عباس (رض) تھے، تو میں نے انھیں بھی اس بارے میں بتایا تھا تو انھوں نے یہ کہا تھا : مجھے تو اللہ تعالیٰ کی کتاب میں دو چیزوں کو دھونے اور دو چیزوں پر مسح کرنے کام حکم ملتا ہے۔
امام زین العابدین (رض) بیان کرتے ہیں : میں نے اس خاتون سے دریافت کیا : اس برتن میں کتنا پانی آجاتا تھا ؟ تو انھوں نے جواب دیا : جتنا ایک ” ہاشمی مد “ ہوتا ہے، جتنا ایک عام مد اور ایک چوتھائی مد ہوتا ہے۔
عباس بن یزید نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے : اس خاتون نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حوالے سے یہ بات روایت کی ہے : نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کلی کرنے اور ناک میں پانی ڈالنے سے پہلے اپنے چہرے کو دھویا تھا، جبکہ اہل بدر نے یہ بات بیان کی ہے، جن میں حضرت عثمان غنی (رض) اور حضرت علی (رض) بھی شامل ہیں، نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وضو کا آغاز کلی کرنے اور ناک میں پانی ڈالنے سے کرتے تھے اور یہ عمل چہرہ دھونے سے پہلے کرتے تھے اور لوگوں کا عام معمول بھی یہی ہے۔