3144 - حَدَّثَنَا أَبُو حَامِدٍ مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ الْحَضْرَمِىُّ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِىٍّ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِى حَثْمَةَ وَمُحَيِّصَةَ بْنِ مَسْعُودِ بْنِ زَيْدٍ أَنَّهُمَا أَتَيَا خَيْبَرَ وَهِىَ يَوْمَئِذٍ صُلْحٌ فَتَفَرَّقَا لِحَوَائِجِهِمَا فَأَتَى مُحَيِّصَةُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَهْلٍ وَهُوَ يَتَشَحَّطُ فِى دَمِهِ قَتِيلاً فَدَفَنَهُ ثُمَّ قَدِمَ الْمَدِينَةَ وَانْطَلَقَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلٍ وَحُوَيِّصَةُ وَمُحَيِّصَةُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَذَهَبَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَتَكَلَّمُ وَهُوَ أَحْدَثُ الْقَوْمِ سِنًّا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « كَبِّرِ الْكُبْرَ ». فَسَكَتَ فَتَكَلَّمَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « أَتَحْلِفُونَ خَمْسِينَ مِنْكُمْ فَتَسْتَحِقُّونَ دَمَ صَاحِبِكُمْ أَوْ قَاتِلِكُمْ ». قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ نَحْلِفُ وَلَمْ نَشْهَدْ وَلَمْ نَرَ. قَالَ « أَتُبَرِّئُكُمْ يَهُودُ بِخَمْسِينَ يَمِينًا ». قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ نَأْخُذُ أَيْمَانَ قَوْمٍ كُفَّارٍ فَعَقَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- مِنْ عِنْدِهِ.
3144 ۔ بشیر بن یسار ، حضرت سہل بن ابوحثمہ (رض) اور حضڑت محیصہ بن مسعود (رض) کے بارے میں نقل کرتے ہیں : یہ دونوں حضرات خبیر تشریف لے گئے ، ان دنوں (مسلمانوں اور یہودیوں کی ) صلح چل رہی تھی ، یہ دونوں حضرات اپنے اپنے کام کے سلسلے میں ایک دوسرے سے جدا ہوگئے، حضرت محیصہ (رض) اپنے دوسرے ساتھی حضرت عبداللہ بن سہل کے پاس پہنچے تو وہ خون میں لت پت تھے، اور قتل ہوچکے تھے۔ حضرت محیصہ (رض) نے انھیں دفن کیا بعد میں جب وہ مدینہ منورہ آئے تو عبدالرحمن بن سہل، حویصہ بن مسعود اور محیصہ بن مسعود، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ عبدالرحمن بن سہل گفتگو کرنے لگے وہ ان تینوں میں سب سے کم عمر تھے تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا پہلے بڑے کو موقع دو، تو وہ خاموش ہوگئے ، بقیہ دونوں حضرات نے بات کی ، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دریافت کیا کیا تمہارے پچاس افراد حلف اٹھا کر اپنے ساتھی کے خون (کے بدلے راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) اپنے قاتل کے خون کے مستحق بننے کے لیے تیار ہوجائیں گے ؟ انھوں نے عرض کی : یارسول اللہ ہم کیسے حلف اٹھاسکتے ہیں ؟ جبکہ ہم وہاں موجود ہی نہیں تھے ، ہم نے (قتل ہوتے) دیکھا ہی نہیں ؟ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا یہودیوں کے پچاس افراد قسم اٹھا کر بری الذمہ ہوجائیں گے ، انھوں نے عرض کی ہم کفار کی قسموں کا کی سے اعتبار کریں ؟ راوی بیان کرتے ہیں : تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی طرف سے ان لوگوں کو دیت ادا کی ۔