hadith book logo

Sunan Al Daraqutni: Hadith 3147

.

سنن الدارقطني

3147
Sunan Al Daraqutni
3147 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ الْهَيْثَمِ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ سَعْدَوَيْهِ عَنْ عَبَّادٍ عَنْ حَجَّاجٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ خَرَجَ مُحَيِّصَةُ وَحُوَيِّصَةُ ابْنَا مَسْعُودٍ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَهْلٍ إِلَى خَيْبَرَ يَمْتَارُونَ فَتَفَرَّقُوا لِحَاجَتِهِمْ فَمَرُّوا بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَهْلٍ قَتِيلاً فَرَجَعُوا إِلَى النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- فَأَخْبَرُوهُ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « تَحْلِفُونَ خَمْسِينَ قَسَامَةً تَسْتَحِلُّونَ بِهِ قَاتِلَكُمْ ». فَكَرِهُوا قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ نَحْلِفُ عَلَى الْغَيْبِ نَحْلِفُ عَلَى أَمْرٍ غِبْنَا عَنْهُ قَالَ « فَتَحْلِفُ الْيَهُودُ خَمْسِينَ يَمِينًا فَيَبْرَءُونَ ». قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ نَقْبَلُ أَيْمَانَ قَوْمٍ كُفَّارٍ فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- مَالٌ مِنْ مَالِ الصَّدَقَةِ فَوَدَاهُ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- مِنْ عِنْدِهِ.
3147 ۔ عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : حضرت محیصہ بن مسعود (رض) ، حضرت حویصہ بن مسعود (رض) ، حضرت عبدالرحمن (رض) (بن سہل) اور حضرت عبداللہ سہل (رض) خیبر گئے وہاں یہ حضرات اپنے کام کے سلسلے میں ایک دوسرے سے جدا ہوگئے پھر انھیں حضرت عبداللہ بن سہل (رض) مقتول ملے یہ حضرات واپس نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس بارے میں بتایا تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے فرمایا تم پچاس افراد قسامت کے طور پر قسم اٹھا کر اپنے قاتل (کو سزا) دے سکتے ہو، تو ان حضرات کو یہ گوارا نہیں ہوا، انھوں نے عرض کی ، یارسول اللہ، ہم غیب کے بارے میں کیسے قسم اٹھاسکتے ہیں ، ہم ایک ایسے معاملے کے بارے میں قسم اٹھائیں جس میں ہم موجود نہیں تھے، تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا، پھر یہودیوں کے پچاس افراد قسم اٹھا کر بری الذمہ ہوجائیں گے ۔ ان حضرات نے عرض کی یارسول اللہ کیا ہم کفار کی قسموں کو قبول کرلیں ؟ (راوی بیان کرتے ہیں ) پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں زکوۃ کا مال آیا تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خود (اس مقتول) کی دیت ادا کی۔