3148 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّائِىُّ عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ أَنَّ رَجُلاً مِنَ الأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ سَهْلُ بْنُ أَبِى حَثْمَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ نَفَرًا مِنْ قَوْمِهِ انْطَلَقُوا إِلَى خَيْبَرَ فَتَفَرَّقُوا فِيهَا فَوَجَدُوا أَحَدَهُمْ قَتِيلاً فَقَالُوا لِلَّذِينَ وَجَدُوهُ عِنْدَهُمْ قَتَلْتُمْ صَاحِبَنَا. قَالُوا مَا قَتَلْنَا وَلاَ عَلِمْنَا قَاتِلاً. فَانْطَلَقُوا إِلَى النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالُوا يَا نَبِىَّ اللَّهِ انْطَلَقْنَا إِلَى خَيْبَرَ فَوَجَدْنَا أَحَدَنَا قَتِيلاً. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « الْكُبْرَ الْكُبْرَ ». فَقَالَ لَهُمْ « تَأْتُونَ بِالْبَيِّنَةِ عَلَى مَنْ قَتَلَ ». قَالُوا مَا لَنَا بَيِّنَةٌ. قَالَ « فَيَحْلِفُونَ لَكُمْ » . قَالُوا لاَ نَرْضَى أَيْمَانَ الْيَهُودِ وَكَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَنْ يُبْطِلَ دَمَهُ فَوَدَاهُ مِائَةً مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ.
3148 ۔ بشیر بن یسار بیان کرتے ہیں : انصار سے تعلق رکھنے والے ایک صحابی ، جن کا نام حضرت سہل بن ابوحثمہ (رض) تھا، انھوں نے یہ بات بتائی ، وہ اپنے قبیلہ کے کچھ افراد کے ہمراہ خیبر گئے ، وہاں وہ لوگ ایک دوسرے سے جدا ہوگئے پھر انھوں نے اپنے ایک فرد کو مقتول پایاتو جن لوگوں کے پاس انھوں نے مقتول کو پایا تھا، ان لوگوں سے انھوں نے کہا : تم نے ہمارے ساتھی کو قتل کیوں کیا ہے ؟ تو وہ لوگ بولے ہم نے قتل نہیں کیا اور نہ ہی ہمیں قاتل کے بارے میں علم ہے ، پھر یہ حضرات نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضڑ ہوئے انھوں نے عرض کی ، اے اللہ کے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ہم خیبر گئے وہاں ہم نے اپنے ایک فرد کو مقتول پایا تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا پہلے بڑے کو موقع دو، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے فرمایا تم اس بارے میں ثبوت پیش کرو، کہ کس نے اسے قتل کیا ہے ؟ انھوں نے عرض کی ہمارے پاس کوئی ثبوت نہیں ہے ، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا پھر (وہ یہودی) قسم اٹھالیں (اور بری الذمہ ہوجائیں گے ) ان حضرات نے عرض کی : ہم یہودیوں کے قسم اٹھانے پر راضی نہیں ہوں گے۔
راوی بیان کرتے ہیں : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ بھی اچھا نہیں لگا کہ مقتول کا خون رائیگاں جائے اس لیے آپ نے خود زکوۃ کے اونٹوں میں سے ایک سو اونٹ دیت کے طور پر ادا کیے۔