3208 - حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ زَنْجَوَيْهِ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَوْهَبٍ حَدَّثَنِى مَالِكُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ وُجِدَ فِى قَائِمِ سَيْفِ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- كِتَابَانِ « إِنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عُتُوًّا فِى الأَرْضِ رَجُلٌ ضَرَبَ غَيْرَ ضَارِبِهِ أَوْ رَجُلٌ قَتَلَ غَيْرَ قَاتِلِهِ وَرَجُلٌ تَوَلَّى غَيْرَ أَهْلِ نِعْمَتِهِ فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ فَقَدْ كَفَرَ بِاللَّهِ وَبِرَسُولِهِ لاَ يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُ صَرْفًا وَلاَ عَدْلاً ». وَفِى الآخَرِ « الْمُؤْمِنُونَ تَتَكَافَأُ دِمَاؤُهُمْ وَيَسْعَى بِذِمَّتِهِمْ أَدْنَاهُمْ لاَ يُقْتَلُ مُسْلِمٌ بِكَافِرٍ وَلاَ ذُو عَهْدٍ فِى عَهْدِهِ وَلاَ يَتَوَارَثُ أَهْلُ مِلَّتَيْنِ ». مُخْتَصَرٌ.
3208 ۔ سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) بیان کرتی ہیں : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تلوار کے قبضے میں یہ دو باتیں پائی گئی تھیں، زمین میں سب سے زیادہ نافرمان شخص وہ ہے جو اپنے مارنے والے کے علاوہ کسی دوسرے کو ماردے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) جو اپنے قتل کرنے والے کے علاوہ کسی اور قتل کردے ، اور وہ شخص جو اپنے آقا کی بجائے خود کو کسی اور کی طرف منسوب کرے جو شخص ایسا کرے گا، اس نے گویا اللہ اور اس کے رسول کا انکار کیا، اللہ ایسے شخص کی کوئی فرض یانفل عبادت قبول نہیں کرے گا۔
(دوسری بات یہ ہے ): اہل ایمان کی جان یکساں حیثیت کی حامل ہے اور ان کے عام فرد کی دی ہوئی پناہ کا احترام کیا جائے گا، کسی مسلمان کو کسی کافر کے بدلے میں قتل نہیں کیا جائے گا، اور کسی معاہد (ذمی) کو قتل نہیں کیا جائے گا اور دومذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگ ایکد وسرے کے وارث نہیں بنیں گے ۔ (یہ روایت مختصر ہے) ۔