3209 - حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَشِّرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَادَةَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِىُّ عَنْ أَبِى مِجْلَزٍ أَنَّ عَلِيًّا رضى الله عنه نَهَى أَصْحَابَهُ أَنْ يَنْبَسِطُوا عَلَى الْخَوَارِجِ حَتَّى يُحْدِثُوا حَدَثًا فَمَرُّوا بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابٍ فَأَخَذُوهُ فَانْطَلَقُوا بِهِ فَمَرُّوا عَلَى تَمْرَةٍ سَاقِطَةٍ مِنْ نَخْلَةٍ فَأَخَذَهَا بَعْضُهُمْ فَأَلْقَاهَا فِى فِيهِ فَقَالَ لَهُ بَعْضُهُمْ تَمْرَةُ مُعَاهَدٍ فَبِمَ اسْتَحْلَلْتَهَا فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ خَبَّابٍ أَفَلاَ أَدُلُّكُمْ عَلَى مَنْ هُوَ أَعْظَمُ حُرْمَةً عَلَيْكُمْ مِنْ هَذَا قَالُوا نَعَمْ. قَالَ أَنَا. فَقَتَلُوهُ فَبَلَغَ ذَلِكَ عَلِيًّا فَأَرْسَلَ إِلَيْهِمْ أَنْ أَقِيدُونَا بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابٍ. قَالُوا كَيْفَ نُقِيدُكَ بِهِ وَكُلُّنَا قَتَلَهُ قَالَ وَكُلُّكُمْ قَتَلَهُ قَالُوا نَعَمْ. قَالَ اللَّهُ أَكْبَرُ. ثُمَّ أَمَرَ أَنْ يَنْبَسِطُوا عَلَيْهِمْ وَقَالَ وَاللَّهِ لاَ يُقْتَلُ مِنْكُمْ عَشْرَةٌ وَلاَ يَفْلِتُ مِنْهُمْ عَشْرَةٌ قَالَ فَقَتَلُوهُمْ. قَالَ فَقَالَ اطْلُبُوا فِيهِمْ ذَا الثُّدَيَّةِ وَذَكَرَ بَاقِىَ الْحَدِيثِ
3209 ۔ حضرت علی (رض) نے اپنے ساتھیوں کو اس بات سے منع کیا تھا، کہ وہ خوارج کے ساتھ نرم رویہ اختیار کریں، ان لوگوں کا گزر عبداللہ بن خباب کے پاس سے ہوا تو ان لوگوں نے اسے پکڑ لیا، اور اسے لے کر روانہ ہوئے ان کا گزر ایک کھجور کے پاس سے ہواجودرخت سے نیچے گری ہوئی تھی ان میں سے ایک شخص نے کھجور اٹھا کر منہ میں ڈال لی تو دوسرے شخص نے اسے کہا، تم نے معاہد کی کھجور کھالی، تم نے کس بنیاد پر اسے حلال قرار دیا، تو عبداللہ بن خباب نے کہا ، کیا میں تمہاری رہنمائی اس چیز کی طرف نہ کروں جو تمہارے لیے اس سے زیادہ قابل احترام ہے ، لوگوں نے کہا جی ہاں۔ تو عبداللہ بن خباب نے کہا میں وہ ہوں ، پھر ان لوگوں نے عبداللہ بن خباب کو قتل کردیا، اس بات کی اطلاع حضرت علی (رض) کو ملی تو انھوں نے لوگوں کو پیغام بھیجا تم ہمیں عبداللہ بن خباب کی دیت ادا کرو، تو انھوں نے جواب دیاہم اس کی دیت آپ کو کی سے ادا کریں، جبکہ ہم میں سے ہر ایک شخص نے اسے قتل کیا ہے ، حضرت علی (رض) نے فرمایا کیا تم سب لوگوں نے اسے قتل کیا ہے ؟ انھوں نے جواب دیا، جی ہاں ، تو حضرت علی (رض) نے اللہ اکبر کہا، پھر آپ نے یہ حکم دیا، (کہ آپ کے ساتھی ) ان لوگوں پر بھرپور حملہ کردیں حضرت علی (رض) نے فرمایا اللہ کی قسم تم میں سے دس افراد بھی شہید نہیں ہوں گے اور ان میں سے دس افراد بھی زندہ نہیں بچے گے۔
راوی بیان کرتے ہیں : تو حضرت علی (رض) نے ان سب لوگوں کو قتل کروادیا، حضرت علی (رض) نے حکم دیا ان میں ابھرے ہوئے گوشت والے کو تلاش کرو۔
اس کے بعد راوی نے پوراواقعہ ذکر کیا ہے۔