3555 - أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ وَالْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الأَشْعَثِ حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَجَاءَتْهُ امْرَأَةٌ تَعْرِضُ نَفْسَهَا عَلَيْهِ فَخَفَضَ فِيهَا الْبَصَرَ وَرَفَعَهُ فَلَمْ يُرِدْهَا فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ زَوِّجْنِيهَا . قَالَ « هَلْ عِنْدَكَ مِنْ شَىْءٍ » قَالَ مَا عِنْدِى مِنْ شَىْءٍ. قَالَ « وَلاَ خَاتَمٌ مِنْ حَدِيدٍ ». قَالَ وَلاَ الْخَاتَمُ مِنَ الْحَدِيدِ وَلَكِنْ أَشُقُّ بُرْدَتِى هَذِهِ فَأُعْطِيهَا النِّصْفَ وَآخُذُ النِّصْفَ. قَالَ « لاَ ». قَالَ « هَلْ مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ شَىْءٌ ». قَالَ نَعَمْ قَالَ « اذْهَبْ فَقَدْ زَوَّجْتُكَهَا بِمَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ ».
3555 ۔ حضرت سہل بن سعد ساعدی (رض) بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس موجود تھے ایک خاتون آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئی اور خود کو نکاح کے لیے پیش کیا، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نظر جھکائی ، پھر اٹھائی لیکن مثبت رد عمل نہیں دیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب میں سے ایک صاحب نے عرض کی یارسول اللہ میری شادی اس کے ساتھ کردیں ! نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دریافت کیا کیا تمہارے پاس (مہر کے طور پر ادا کرنے کے لیے ) کوئی چیز ہے۔ انھوں نے عرض کی میرے پاس کوئی چیز نہیں ہے ، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دریافت کیا لوہے کی کوئی انگوٹھی بھی نہیں ؟ انھوں نے عرض کی لوہے کی کوئی انگوٹھی بھی نہیں ، البتہ اپنی چادر کو دو حصوں میں تقسیم کرکے اسے دے دیتاہوں اور آدھی اپنے پاس رکھ لوں گا، نبی کریم نے فرمایا نہیں، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دریافت کیا کیا تمہیں قرآن (زبانی) آتا ہے ؟ اس نے عرض کی جی ہاں، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جاؤ تمہیں جو قرآن آتا ہے اس (کی تعلیم دینے کے مہر ہونے) کے عوض میں ، میں نے تمہاری شادی اس کے ساتھ کی۔