3646 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ مُسَلَّمٍ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِى ابْنُ شِهَابٍ عَنِ الْمُلاَعَنَةِ وَعَنِ السُّنَّةِ فِيهِمَا عَنْ حَدِيثِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِىِّ أَنَّ رَجُلاً مِنَ الأَنْصَارِ جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ رَجُلاً وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلاً أَيَقْتُلُهَا فَتَقْتُلُونَهُ أَمْ كَيْفَ يَصْنَعُ بِهَا فَأَنْزَلَ اللَّهُ فِى شَأْنِهِمَا مَا ذُكِرَ فِى الْقُرْآنِ مِنْ أَمْرِ الْمُتَلاَعِنَيْنِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « قَدْ قَضَى اللَّهُ فِيكَ وَفِى امْرَأَتِكَ ». قَالَ فَتَلاَعَنَا فِى الْمَسْجِدِ - وَأَنَا شَاهِدٌ - عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَكَانَتِ السُّنَّةُ بَعْدُ فِيهِمَا أَنْ يُفَرَّقَ بَيْنَ الْمُتَلاَعِنَيْنِ وَكَانَتْ حَامِلاً فَأَنْكَرَهُ فَكَانَ ابْنُهَا يُدْعَى إِلَى أُمِّهِ ثُمَّ جَرَتِ السُّنَّةُ فِى أَنَّهَا تَرِثُهُ وَيَرِثُ مَا فَرَضَ اللَّهُ لَهُ مِنْهَا .
3646 ۔ حضرت سہل بن سعد ساعدی (رض) بیان کرتے ہیں : ایک انصاری شخص نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضڑ ہوا اور عرض کی یارسول اللہ ، ایسے شخص کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے جو اپنی بیوی کے ساتھ کسی فرد کو پاتا ہے اگر وہ اس عورت کو قتل کردیتا ہے تو آپ لوگ اسے قتل کردیں گے ایسے شخص کو اس عورت کے ساتھ کرنا چاہیے۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں حکم نازل کیا جو لعان کرنے والوں کے بارے میں قرآن میں مذکور ہے ، نبی کریم نے اس سے فرمایا اللہ تعالیٰ نے تمہارے اور تمہاری بیوی کے بارے میں فیصلہ دے دیا ہے ۔
راوی بیان کرتے ہیں : ان دونوں میاں بیوی نے مسجد میں لعان کیا، نبی کریم کے ساتھ میں بھی وہاں موجود تھا۔ راوی کہتے ہین) اس کے بعد اسیے میاں بیوی کے بارے میں یہ طریقہ رائج ہوا کہ لعان کرنے والوں کے درمیان علیحدگی کردی جاتی تھی۔
راوی کہتے ہیں وہ عورت حاملہ تھی ، مرد نے اس کے حمل کا انکار کیا تو اس کے بعد اس عورت کے بیٹے کو اس کی ماں کی نسبت سے بلایاجاتا تھا۔ اس کے بعد یہ طریقہ رائج ہوا کہ ایسی عورت اپنے اس بچے کی وارث بنتی تھی، اور وہ بچہ اس عورت کا وارث بنتا تھا، جوالہ نے بیٹے کی وراثت کے طور پر مقرر کیا تھا۔