3648 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِى عِيَاضُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَغَيْرُهُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِىِّ قَالَ حَضَرْتُ الْمُتَلاَعِنَيْنِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَطَلَّقَهَا ثَلاَثَ تَطْلِيقَاتٍ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَأَنْفَذَهُ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَكَانَ مَا صُنِعَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- سُنَّةً فَمَضَتِ السُّنَّةُ بَعْدُ فِى الْمُتَلاَعِنَيْنِ يُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا ثُمَّ لاَ يَجْتَمِعَانِ أَبَدًا.
3648 ۔ حضرت سہل بن سعد ساعدی (رض) بیان کرتے ہیں : میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے لعان کرنے والے (میاں بیوی) کے واقعہ میں موجود تھا، اس مرد نے نبی کریم کی موجودگی میں اس عورت کو تین طلاقیں دے دیں تو نبی نے ان کو نافذ قرار دیا۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی موجودگی میں جو کچھ بھی کیا جائے تو وہ سنت ہوتا ہے۔ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس پر انکار کریں۔
اس کے بعد لعان کرنے والوں کے درمیان یہی سنت رائج ہوئی کہ میاں بیوی کے درمیان علیحدگی کردی جاتی تھی اور پھر وہ دونوں کبھی اکٹھے نہیں ہوسکتے۔