3721 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ صَخْرٍ الدَّارِمِىُّ حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلاَلٍ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ عَائِشَةَ اشْتَرَتْ بَرِيرَةَ فَأَعْتَقَتْهَا وَاشْتَرَطَتِ الْوَلاَءَ فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ أَنَّ الْوَلاَءَ لِمَنْ أَعْتَقَ وَخَيَّرَهَا فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا فَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا وَجَعَلَ عَلَيْهَا عِدَّةَ الْحُرَّةِ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ جَوَّدَ حَبَّانُ فِى قَوْلِهِ عِدَّةَ الْحُرَّةِ لأَنَّ عَفَّانَ بْنَ مُسْلِمٍ وَعَمْرَو بْنَ عَاصِمٍ رَوَيَاهُ فَقَالاَ وَأَمَرَهَا أَنْ تَعْتَدَّ وَلَمْ يَذْكُرَا عِدَّةَ الْحُرَّةِ.
3721 ۔ حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں : سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) نے بریرہ کو خرید کرا سے آزاد کردیا اور اس کی ولاء کی شرط رکھی ، تو نبی کریم نے یہ فیصلہ دیا ولاء کا حق آزاد کرنے والے کو حاصل ہوتا ہے نبی کریم نے بریرہ کو اختیار دیا، تو اس نے اپنی ذات کو اختیار کرلیا، نبی کریم نے ان میاں بیوی کے درمیان علیحدگی کروادی اور بریرہ (کی عدت) آزاد عورت کی عدت (جتنی ) مقرر کی۔
بعض راویوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے عدت گزارنے کی ہدایت کی ۔ ان راویوں نے ، ، آزاد عورت کی عدت، ، کے الفاظ نقل نہیں کیے ہیں۔