3822 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الشَّافِعِىُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنِ الشَّيْبَانِىِّ عَنْ بَحْرِيَّةَ بِنْتِ هَانِئٍ الأَعْوَرِ أَنَّهُ سَمِعَهَا تَقُولُ زَوَّجَهَا أَبُوهَا رَجُلاً وَهُوَ نَصْرَانِىٌّ وَزَوَّجَتْ نَفْسَهَا الْقَعْقَاعَ بْنَ سَوْرٍ فَجَاءَ أَبُوهَا إِلَى عَلِىٍّ رضى الله عنه فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا وَوَجَدَ الْقَعْقَاعَ قَدْ بَاتَ عِنْدَهَا وَقَدِ اغْتَسَلَ فَجِىءَ بِهِ إِلَى عَلِىٍّ فَإِذَا عَلَيْهِ خَلُوقٌ فَقَالَ أَبُوهَا فَضَحْتَنِى وَاللَّهِ مَا أَرَدْتُ هَذَا. قَالَ أَتَرَى بِنَائِى كَانَ يَكُونُ سِرًّا فَارْتَفَعُوا إِلَى عَلِىٍّ رضى الله عنه فَقَالَ دَخَلْتَ بِهَا قَالَ نَعَمْ. فَأَجَازَ نِكَاحَهَا نَفْسَهَا. بَحْرِيَّةُ مَجْهُولَةٌ
3822 ۔ بحریہ بنت ہانی بن قبیصہ بیان کرتی ہیں ان کے والد نے ان کی شادی ایک ایسے شخص کے ساتھ کردی جو عیسائی تھا اس عورت نے خود قعقاع بن سور کے ساتھ شادی کرلی، اس لڑکی کا والد حضرت علی (رض) کے پاس آیا حضرت علی (رض) نے قعقاع کو بلایا، اس وقت وہ اس عورت کے سات صحبت کرنے کے بعد غسل بھی کرچکے تھے ، انھیں حضرت علی (رض) کی خدمت میں لایا گیا تو ان پر زردرنگ کا نشان موجود تھا لڑکی کے باپ نے کہا تم نے مجھے رسوائی کا شکار کیا، میں یہ نہیں چاہتا تھا، تو قعقاع بولے کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ میں نے چھپ کر شادی کی ہے ؟ ان لوگوں نے اپنا مقدمہ حضرت علی (رض) کے سامنے پیش کیا، تو حضرت علی (رض) نے دریافت کیا کیا تم اس عورت کے ساتھ صحبت کرچکے ہو ؟ انھوں نے جواب دیا جی ہاں۔ تو حضرت علی (رض) نے اس عورت کو اپنی شادی خود کرلینے کو درست قرار دیا۔
بحریہ نامی عورت مجہول ہے۔