3827 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِى الثَّلْجِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَمَّادٍ الطِّهْرَانِىُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنِى عَمِّى وَهْبُ بْنُ نَافِعٍ قَالَ سَمِعْتُ عِكْرِمَةَ يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ يَقُولُ الطَّلاَقُ عَلَى أَرْبَعَةِ وُجُوهٍ وَجْهَانِ حَلاَلٌ وَوَجْهَانِ حَرَامٌ فَأَمَّا الْحَلاَلُ فَأَنْ يُطَلِّقَهَا طَاهِرًا مِنْ غَيْرِ جِمَاعٍ وَأَنْ يُطَلِّقَهَا حَامِلاً مُسْتَبِينًا حَمْلَهَا وَأَمَّا الْحَرَامُ فَأَنْ يُطَلِّقَهَا وَهِىَ حَائِضٌ أَوْ يُطَلِّقَهَا حِينَ يُجَامِعُهَا لاَ يَدْرِى اشْتَمَلَ الرَّحِمُ عَلَى وَلَدٍ أَمْ لاَ
3827 ۔ حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں : طلاق دینے کے چار طریقے ہیں ان میں دوطریقے حلال ہیں اور دوحرام ہیں ۔
ایک حلال طریقہ یہ ہے : آدمی عورت کو اس وقت طلاق دے جب وہ طہر کی حالت میں ہو (اور طہر کے دوران اس شخص نے) اس عورت کے ساتھ صحبت نہ کی ہو (دوسرا طریقہ یہ ہے ) آدمی حاملہ عورت کو اس وقت طلاق دے جب اس کا حمل ظاہر ہوچکاہو۔
(ایک) حرام طریقہ یہ ہے کہ آدمی عورت کو اس وقت طلاق دے جب وہ حیض کی حالت میں ہو۔ (دوسرا حرام طریقہ یہ ہے ) آدمی عورت کو طہر حالت میں اس وقت طلاق دے جب وہ اس کے ساتھ صحبت کر چکاہو، اسے یہ پتہ نہ چل سکے کہ رحم میں بچہ ہے یا نہیں ہے۔