3853 - حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدٍ الْقَاسِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ زَنْجَوَيْهِ حَدَّثَنَا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَاشِدٍ حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ أَبِى سَلَمَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ ذُكِرَ عِنْدَهُ أَنَّ الطَّلاَقَ الثَّلاَثَ بِمَرَّةٍ مَكْرُوهٌ فَقَالَ طَلَّقَ حَفْصُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْمُغِيرَةِ فَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ بِكَلِمَةٍ وَاحِدَةٍ ثَلاَثًا فَلَمْ يَبْلُغْنَا أَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- عَابَ ذَلِكَ عَلَيْهِ وَطَلَّقَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ امْرَأَتَهُ ثَلاَثًا فَلَمْ يَعِبْ ذَلِكَ عَلَيْهِ أَحَدٌ.
3853 ۔ سلمہ بن ابو سلمہ اپنے والد کے بارے میں بیان کرتے ہیں : ان کے سامنے یہ بات ذکر کی گئی کہ ایک ساتھ تین طلاقیں دینامکروہ ہے تو انھوں نے فرمایا، حفص بن عمرو بن مغیرہ نے فاطمہ بنت قیس کو ایک ہی کلمہ کے ذریعہ تین طلاقیں دیدی تھیں تو ہمیں ایسی کوئی اطلاع نہیں ملی کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس حوالے سے ان پر کوئی اعتراض کیا ہو، اسی طرح حضرت عبدالرحمن بن عوف (رض) نے بھی اپنی اہلیہ کو (ایک ساتھ) تین طلاقیں دیدی تھیں لیکن ان پر بھی کسی نے کوئی اعتراض نہیں کیا۔