3900 - حَدَّثَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ حَدَّثَنَا أَبُو الْجَهْمِ الْعَلاَءُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ طَلَّقَ امْرَأَةً لَهُ وَهِىَ حَائِضٌ تَطْلِيقَةً وَاحِدَةً فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَنْ يُرَاجِعَهَا ثُمَّ يُمْسِكَهَا حَتَّى تَطْهُرَ ثُمَّ تَحِيضَ عِنْدَهُ حَيْضَةً أُخْرَى ثُمَّ يُمْهِلَهَا حَتَّى تَطْهُرَ مِنْ حَيْضِهَا فَإِنْ أَرَادَ أَنْ يُطَلِّقَهَا فَلْيُطَلِّقْهَا حِينَ تَطْهُرُ مِنْ قَبْلِ أَنْ يُجَامِعَهَا فَتِلْكَ الْعِدَّةُ الَّتِى أَمَرَ اللَّهُ تَعَالَى بِهَا أَنْ تُطَلَّقَ لَهَا النِّسَاءُ. قَالَ وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ إِذَا سُئِلَ عَنْ ذَلِكَ قَالَ أَمَّا أَنْتَ طَلَّقْتَ امْرَأَتَكَ تَطْلِيقَةً أَوْ تَطْلِيقَتَيْنِ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَمَرَنِى بِهَذَا وَإِنْ كُنْتَ طَلَّقْتَهَا ثَلاَثًا فَقَدْ حُرِّمَتْ عَلَيْكَ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَكَ وَعَصَيْتَ اللَّهَ فِيمَا أَمَرَكَ مِنْ طَلاَقِ امْرَأَتِكَ .
3900 ۔ نافع بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن عمر (رض) نے اپنی اہلیہ کو طلاق دیدی وہ خاتون اس وقت حیض کی حالت میں تھی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں یہ ہدایت کی وہ اس خاتون سے رجوع کرلیں پھرا سے یوں ہی رہنے دیں یہاں تک کہ وہ پاک ہوجائے پھر جب اسے اگلی مرتبہ حیض آئے تو اسے یوں ہی رہنے دیں یہاں تک کہ وہ اس حیض سے پاک ہوجائے پھر اگر اسے طلاق دیناچا ہیں تو جب وہ عورت پاک ہو اس وقت اس کے ساتھ صحبت کرنے سے پہلے اسے طلاق دیدے، یہ وہ طریقہ ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ حکم دیا ہے ، کہ اس کے مطابق خواتین کو طلاق دی جائے۔
راوی بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن عمر سے جب اس بارے میں سوال کیا جاتا تھا تو وہ فرماتے تھے ، اگر تم نے اپنی بیوی کو ایک یادوطلاقیں دی ہیں (تو تمہیں رجوع کرنا چاہیے) کیونکہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے اس بات کا حکم دیا تھا، لیکن اگر تم اس عورت کو تین طلاقیں دے چکے ہو تو وہ اب تمہارے لیے اس وقت حرام رہے گی ، جب تک وہ کسی دوسرے شخص کے ساتھ شادی کرکے (مطلقہ یابیوہ) نہیں ہوجاتی اللہ تعالیٰ نے تمہیں بیوی کو طالق دینے کا جو حکم دیا تھا، تم نے اس بارے میں اللہ کی نافرمانی کی ہے۔