3924 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ح وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِى الثَّلْجِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَمَّادٍ الطِّهْرَانِىُّ ح وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ قَالُوا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنِى عَمِّى وَهْبُ بْنُ نَافِعٍ أَنَّهُ سَمِعَ عِكْرِمَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَقُولُ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ الطَّلاَقُ عَلَى أَرْبَعَةِ وُجُوهٍ وَجْهَانِ حَلاَلٌ وَوَجْهَانِ حَرَامٌ فَأَمَّا اللَّذَانِ هُمَا حَلاَلٌ فَأَنْ يُطَلِّقَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ طَاهِرًا مِنْ غَيْرِ جِمَاعٍ أَوْ يُطَلِّقَهَا حَامِلاً مُسْتَبِينًا حَمْلُهَا وَأَمَّا اللَّذَانِ هُمَا حَرَامٌ فَأَنْ يُطَلِّقَهَا حَائِضًا أَوْ يُطَلِّقَهَا عِنْدَ الْجِمَاعِ لاَ يَدْرِى أَشْتَمَلَ الرَّحِمُ عَلَى وَلَدٍ أَمْ لاَ لَفْظُ مُحَمَّدِ بْنُ يَحْيَى.
3924 ۔ حضرت عبداللہ بن عباس فرماتے ہیں : طلاق کے چار طریقے ہیں ان میں سے دوطریقے حلال ہیں، اور دوطریقے حرام ہیں، جہاں تک دو حلال طریقوں کا تعلق ہے ، تو وہ یہ کہ آدمی اپنی بیوی کو اس کے طہر کے عالم میں، اس کے ساتھ صحبت کیے بغیر طلاق دے یا وہ اپنی بیوی کو اس وقت طلاق دے جب وہ عورت حاملہ ہو اور اس کا حمل واضح ہو، جہاں تک ان دوطریقوں کا تعلق ہے ، جو حرام ہیں تو وہ یہ کہ آدمی اپنی بیوی کو اس کے حیض کے دوران طلاق دیدے، یا اس کے ساتھ صحبت کرنے کے بعد اسے طلاق دیدے ، جس میں یہ پتہ نہ چل سکے (اس صحبت کے نتیجے میں) حمل قرار پایا ہے یا نہیں ؟۔