hadith book logo

Sunan Al Daraqutni: Hadith 3946

.

سنن الدارقطني

3946
Sunan Al Daraqutni
3946 - حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَبِيبٍ حَدَّثَنِى إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنِى أَبُو النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ عَلِىِّ بْنِ الْحُسَيْنِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ عُمَرَ قَالَ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- بِأُمِّ وَلَدِهِ مَارِيَةَ فِى بَيْتِ حَفْصَةَ فَوَجَدَتْهُ حَفْصَةُ مَعَهَا فَقَالَتْ لَهُ تُدْخِلُهَا بَيْتِى مَا صَنَعْتَ بِى هَذَا مِنْ بَيْنِ نِسَائِكَ إِلاَّ مِنْ هَوَانِى عَلَيْكَ . فَقَالَ لَهَا « لاَ تَذْكُرِى هَذَا لِعَائِشَةَ فَهِىَ عَلَىَّ حَرَامٌ إِنْ قَرَبْتُهَا ». قَالَتْ حَفْصَةُ فَكَيْفَ تَحْرُمُ عَلَيْكَ وَهِىَ جَارِيَتُكَ فَحَلَفَ لَهَا لاَ يَقْرَبُهَا فَقَالَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- لِحَفَصَةَ « لاَ تَذْكُرِيهِ لأَحَدٍ ». فَذَكَرَتْهُ لِعَائِشَةَ فَآلَى لاَ يَدْخُلُ عَلَى نِسَائِهِ شَهْرًا فَاعْتَزَلَهُنَّ تِسْعًا وَعِشْرِينَ لَيْلَةً فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى (لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ) الآيَةَ. قَالَ وَالْحَدِيثُ طَوِيلٌ.
3946 ۔ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) حضرت عمر (رض) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی ، ام ولد، سیدہ ماریہ قبطیہ ، (رض) کو ساتھ لے کر سیدہ حفصہ (رض) کے گھر میں آئے ، جب سیدہ حفصہ (رض) نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہمراہ اس خاتون کو دیکھا تو انھوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دریافت کیا : آپ اسے میرے گھر کے اندر لے آئے ہیں ؟ آپ نے اپنی دیگر ازواج کو چھوڑ کر میرے ساتھ ایسا اس لیے کیا ہے ، کیونکہ " آپ کے نزدیک میری کوئی حیثیت نہیں ہے۔ نبی کریم نے فرمایا تم عائشہ کے سامنے اس کا ذکر نہیں کرنا، یہ (کنیز) میرے لیے حرام ہے جو میں اس کے قریب جاؤں۔ تو نبی کریم نے یہ حلف اٹھایا کہ آپ اس (کنیز) کے قریب نہیں جائیں گے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم اس بات کا تذکرہ کسی سے نہیں کرنا، لیکن سیدہ حفصہ نے سیدہ عائشہ (رض) سے اس کا ذکر کردیاتو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے (اپنی ازواج) سے ایلاء کیا کہ آپ ایک ماہ تک اپنی ازواج کے پاس تشریف نہیں لے جائیں گے آپ نے 29 دن تک اپنی ازواج سے علیحدگی اختیار کیے رکھی پھر اللہ نے یہ آیت نازل کی : تم اس چیز کو کیوں حرام قرار دیتے ہو جو اللہ نے تمہارے لیے حلال قرار دی ہے۔
راوی کہتے ہیں اس کے بعد طویل حدیث ہے۔