4053 - أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدٍ الْحَضْرَمِىُّ أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْبَرَاءِ أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ مَسْعُودٍ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِى إِسْحَاقَ عَنِ الْحَارِثِ أَنَّ عَلِيًّا رضى الله عنه أُتِىَ فِى بَنِى عَمٍّ أَحَدُهُمْ أَخٌ لأُمٍّ فَقِيلَ لِعَلِىٍّ إِنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ أَعْطَى الأَخَ مِنَ الأُمِّ الْمَالَ كُلَّهُ دُونَهُمْ لِقَرَابَتِهِ فَقَالَ عَلِىٌّ يَرْحَمُ اللَّهُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ إِنْ كَانَ لَفَقِيهًا لَوْ كُنْتُ أَنَا لأَعْطَيْتُهُ السُّدُسَ ثُمَّ أَشْرَكْتُ بَيْنَهُمْ فِيمَا بَقِىَ.
4053 ۔ حارث بیان کرتے ہیں کہ حضرت علی (رض) کے پاس ایک مقدمہ آیا جو چچازاد بھائیوں کے بارے میں تھا ‘ جن میں سے ایک ماں کی طرف سے شریک بھائی بھی تھا ‘ حضرت علی (رض) کو بتایا گیا ‘ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) نے ماں کی طرف سے شریک بھائی کو سارا مال ادا کرنے کا حکم دیا ہے ‘ باقی قریبی رشتے داروں کو اس بارے میں کوئی ادائیگی کرنے کا حکم نہیں دیا تو حضرت علی (رض) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ ‘ عبداللہ بن مسعود (رض) پر رحم کرے ‘ وہ سمجھدار آدمی ہیں ‘ اگر میں ان کی جگہ پر ہوتا تو میں اسے چھٹا حصہ دیتا اور باقی رہ جانے والا مال ان (دوسرے چچازاد بھائیوں) میں تقسیم کردیتا۔