4132 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِى بَكْرٍ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ شَبَّةَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ أَخْبَرَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ وَزَادَ وَجَعَلَ عَلَى رِجْلَيْهِ الإِذْخِرَ وَلَمْ يُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنَ الشُّهَدَاءِ غَيْرِهِ وَقَالَ « أَنَا شَهِيدٌ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ » . وَكَانَ يَدْفِنُ الاِثْنَيْنِ وَالثَّلاَثَةَ فِى قَبْرٍ وَاحِدٍ.
4132 ۔ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے ‘ تاہم اس میں یہ الفاظ زائد ہیں ‘ ان کے پاؤں پر اذخر (نامی گھاس) رکھ دی گئی اور نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے علاوہ اور کسی شہید کی نماز جنازہ ادا نہیں کی ‘ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : میں آج کے دن تم لوگوں کے بارے میں گواہ ہوں۔ ایک قبر میں دو ‘ دو اور تین ‘ تین شہداء کو دفن کیا گیا۔