4135 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِى غَنِيَّةَ أَوْ غَيْرِهِ عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضى الله عنهما قَالَ لَمَّا انْصَرَفَ الْمُشْرِكُونَ عَنْ قَتْلَى أُحُدٍ انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَرَأَى مَنْظَرًا أَسَاءَهُ رَأَى حَمْزَةَ رضى الله عنه قَدْ شُقَّ بَطْنُهُ وَاصْطُلِمَ أَنْفُهُ وَجُدِعَتْ أُذُنَاهُ فَقَالَ « لَوْلاَ أَنْ تَحْزَنَ النِّسَاءُ أَوْ تَكُونَ سُنَّةً بَعْدِى لَتَرَكْتُهُ حَتَّى يَبْعَثَهُ اللَّهُ مِنْ بُطُونِ السِّبَاعِ وَالطَّيْرِ لأُمَثِّلَنَّ مَكَانَهُ بِسَبْعِينَ رَجُلاً ». ثُمَّ دَعَا بِبُرْدَةٍ فَغَطَّى بِهَا وَجْهَهُ فَخَرَجَتْ رِجْلاَهُ فَغَطَّى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَجْهَهُ وَجَعَلَ عَلَى رِجْلَيْهِ شَيْئًا مِنَ الإِذْخِرِ ثُمَّ قَدَّمَهُ فَكَبَّرَ عَلَيْهِ عَشْرًا ثُمَّ جَعَلَ يُجَاءُ بِالرَّجُلِ فَيُوضَعُ وَحَمْزَةُ مَكَانَهُ حَتَّى صَلَّى عَلَيْهِ سَبْعِينَ صَلاَةً وَكَانَ الْقَتْلَى سَبْعِينَ فَلَمَّا دُفِنُوا وَفَرَغَ مِنْهُمْ نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ (ادْعُ إِلَى سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ ) إِلَى قَوْلِهِ (وَاصْبِرْ وَمَا صَبْرُكَ إِلاَّ بِاللَّهِ) فَصَبَرَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَلَمْ يُمَثِّلْ بِأَحَدٍ. لَمْ يَرْوِهِ غَيْرُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَيَّاشٍ وَهُوَ مُضْطَرِبُ الْحَدِيثِ عَنْ غَيْرِ الشَّامِيِّينَ .
4135 ۔ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) بیان کرتے ہیں : جب مشرکین غزوہ احد میں مارے جانے والوں کو چھوڑ کر واپس چلے گئے تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وہ چیز ملاحظہ فرمائی جس سے آپ کو بہت تکلیف ہوئی ‘ آپ نے حضرت حمزہ (رض) کو دیکھا کہ ان کا پیٹ چیر دیا گیا تھا ‘ ناک کاٹ دی گئی تھی ‘ دونوں کان الگ کردیئے گئے تھے۔ آپ نے ارشاد فرمایا : اگر خواتین کے غم گین ہونے کا اندیشہ نہ ہوتا ‘ یا یہ بات میرے بعد رواج نہ بن جاتی ‘ تو میں انھیں یونہی چھوڑ دیتا ‘ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ درندوں اور پرندوں کے پیٹوں میں سے انھیں زندہ کرتا ‘ میں ان کی جگہ ستر آدمیوں کا مثلہ کروں گا۔
پھر نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی چادر منگوائی اور اس کے ذریعے حضرت حمزہ (رض) کے چہرے کو ڈھانپ دیاتو حضرت حمزہ (رض) کے پاؤں ظاہر ہوگئے ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے چہرے کو ڈھانپ دیا اور ان کے پاؤں پر گھاس رکھ دی ‘ پھر آپ نے انھیں آگے کیا اور ان پر دس تکبیریں کہیں ‘ اس کے بعد ایک ‘ ایک شخص کو لایا جاتا رہا اور رکھا جاتارہا ‘ حضرت حمزہ (رض) کی میت وہیں پڑی رہی ‘ یہاں تک کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان پر ستر مرتبہ نماز ادا کی کیونکہ غزوہ احد کے شہداء کی تعداد ستر تھی ‘ جب ان لوگوں کو دفن کردیا گیا اور اپ اس سے فارغ ہوگئے تو یہ آیت نازل ہوئی :” تم اپنے پروردگار کے راستے کی طرف حکمت اور اچھے وعظ کے ذریعے دعوت دو “۔ یہ آیت یہاں تک ہے : تم صبر سے کام لو ‘ تمہارا صبر کرنا صرف اللہ تعالیٰ کی مدد سے ہی ہے “۔
تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صبر سے کام لیا اور آپ نے کسی شخص کا مثلہ نہیں کیا۔
اس روایت کو صرف اسماعیل بن عیاش نامی راوی نے نقل کیا ہے اور اس نے شامیوں کے علاوہ دیگر راویوں سے جو روایات نقل کی ہیں ‘ ان میں اضطراب پایاجاتا ہے۔