4180 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ الأَنْصَارِىُّ أَخْبَرَنِى سُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ قَالَ كُنْتُ عِنْدَ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ فَأَتَاهُ فَتًى مِنَ الأَنْصَارِ فَقَالَ إِنَّ ابْنَةَ عَمٍّ لِى وَأَنَا وَلِيُّهَا أَعْتَقَتْ جَارِيَةً عَنْ دُبُرٍ لَيْسَ لَهَا مَالٌ غَيْرُهَا. فَقَالَ زَيْدٌ فَلْتَأْخُذْ مِنْ رَحِمِهَا مَا دَامَتْ حَيَّةً. قَالَ أَبُو بَكْرٍ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ .
4180 ۔ سلیمان بن یساربیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ میں حضرت زید بن ثابت (رض) کے پاس بیٹھا ہوا تھا ‘ ان کے پاس انصار کا ایک نوجوان آیا اور اس نے بتایا : میری ایک چچا زاد ہے جس کا میں ولی ہوں ‘ اس نے مدبر کے طورپر اپنی کنیزکو آزاد کردیا ہے ‘ اس (چچازاد) کے پاس اس کنیز کے علاوہ اور کوئی مال نہیں ہے ‘ تو حضرت زیدنے فرمایا : جب تک (تمہارے وہ چچازاد) زندہ ہے اس وقت تک تم اس کے ساتھ صلہ رحمی کرو۔ ابوبکرنامی راوی نے یہ کہا ہے : یہ حدیث :” غریب “ ہے۔