4191 - حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِىُّ قَالَ سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ يَقُولُ أَخْبَرَنِى ابْنُ عَمْرَةَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَارِثَةَ - وَهُوَ أَبُو الرِّجَالِ - عَنْ عَمْرَةَ أَنَّ عَائِشَةَ أَصَابَهَا مَرَضٌ وَأَنَّ بَعْضَ بَنِى أَخِيهَا ذَكَرُوا شَكْوَاهَا لِرَجُلٍ مِنَ الزُّطِّ يَتَطَبَّبُ وَأَنَّهُ قَالَ لَهُمْ إِنَّكُمْ لَتَذْكُرُونَ امْرَأَةً مَسْحُورَةً سَحَرَتْهَا جَارِيَةٌ لَهَا فِى حِجْرِ الْجَارِيَةِ الآنَ صَبِىٌّ قَدْ بَالَ فِى حِجْرِهَا فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِعَائِشَةَ فَقَالَتِ ادْعُوا لِى فُلاَنَةَ . لِجَارِيَةٍ لَهَا فَقَالُوا فِى حِجْرِهَا فُلاَنٌ - صَبِىٌّ لَهُمْ - قَدْ بَالَ فِى حِجْرِهَا.فَقَالَتِ ائْتُونِى بِهَا فَأُتِيَتْ بِهَا فَقَالَتْ سَحَرْتِينِى قَالَتْ نَعَمْ. قَالَتْ لِمَهْ قَالَتْ أَرَدْتُ أَنْ أُعْتَقَ. وَكَانَتْ عَائِشَةُ أَعْتَقَتْهَا عَنْ دُبُرٍ مِنْهَا. فَقَالَتْ إِنَّ لِلَّهِ عَلَىَّ أَنْ لاَ تُعْتَقِى أَبَدًا انْظُرُوا أَسْوَأَ الْعَرَبِ مَلَكَةً فَبِيعُوهَا مِنْهُمْ وَاشْتَرَتْ بِثَمَنِهَا جَارِيَةً فَأَعْتَقَتْهَا.
4191 ۔ سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ ایک مرتبہ وہ بیمار ہوگئیں تو ان کے کسی بھتیجے نے ان کی بیماری کا تذکرہ ” زط “ قبیلے سے تعلق رکھنے والے کسی شخص سے کیا جو طبیب تھا ‘ تو وہ شخص بولا : تم جن کے بارے میں بتا رہے ہو اس خاتون پر جادو کیا گیا ہے اور یہ جادو اس کی کسی کنیز نے کیا ہے ‘ جس کی گود میں اس وقت بچہ بھی موجود ہے۔ اور اس بچے نے اس عورت کی گود میں پیشاب کیا تھا۔ ان بھتیجیوں نے اس بات کا تذہ کرہ سیدہ عائشہ سے کیا توسیدہ عائشہ نے فرمایا کہ فلاں کنیز کو میرے پاس لے کے آؤ ‘ انھوں نے اپنی ایک کنیز کے بارے میں کہا ‘ تو ان لوگوں نے بتایا کہ اس کی گود میں اس کا ایک بچہ ہے ‘ جس نے سیدہ عائشہ کی گود میں پیشاب کیا تھا توسیدہ عائشہ نے کہا کہ اسے میرے پاس لے کے آؤ ‘ اس کنیزکولایا گیا تو سیدہ عائشہ نے دریافت کیا : تم نے مجھ پر جادو کیا تھا ؟ تو اس نے جواب دیا : جی ہاں ! سیدہ عائشہ نے دریافت کیا : وہ کیوں ؟ اس نے جواب دیا : میں یہ چاہتی تھی کہ آپ مجھے آزاد کردیں ‘ توسیدہ عائشہ نے مدبر کے طور پر اس کنیز کو ازاد کردیا ‘ پھر سیدہ عائشہ نے فرمایا : اب اللہ کے نام پر یہ بات مجھ پر لازم ہے کہ تم کبھی آزاد نہیں ہوسکو گی ‘(پھر انھوں نے لوگوں سے فرمایا :) کوئی ایساشخص ڈھونڈو ! جو بہت برامالک ہو اور یہ کنیزا سے فروخت کردو ‘ پھر سیدہ عائشہ (رض) نے اس کی قیمت کے عوض میں ایک اور کنیزخریدلی اور اسے آزاد کردیا۔