4223 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِىُّ حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ خَالِدٍ الْخُزَاعِىُّ قَالَ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- فِى بَيْتِ عَائِشَةَ مَعَهُ بَعْضُ نِسَائِهِ يَنْتَظِرُونَ طُعَيْمًا قَالَ فَسَبَقَتْهَا - قَالَ عِمْرَانُ أَكْبَرُ ظَنِّى أَنَّهُ قَالَ حَفْصَةُ - بِصَحْفَةٍ فِيهَا ثَرِيدٌ قَالَ فَوَضَعْتُهَا فَخَرَجَتْ عَائِشَةُ فَأَخَذَتِ الصَّحْفَةَ - قَالَ وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يُحْجَبْنَ - قَالَ فَضَرَبَتْ بِهَا فَانْكَسَرَتْ فَأَخَذَهَا نَبِىُّ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- بِيَدِهِ قَالَ فَضَمَّهَا وَقَالَ بِكَفِّهِ يَصِفُ ذَلِكَ عِمْرَانُ وَقَالَ « غَارَتْ أُمُّكُمْ ». فَلَمَّا فَرَغَ أَرْسَلَ بِالصَّحْفَةِ إِلَى حَفْصَةَ وَأَرْسَلَ بِالْمَكْسُورَةِ إِلَى عَائِشَةَ فَصَارَتْ قَضِيَّةً مَنْ كَسَرَ شَيْئًا فَهُوَ لَهُ وَعَلَيْهِ مِثْلُهُ.
4223 ۔ حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ‘ سیدہ عائشہ (رض) کے گھر میں اپنی بعض دیگر ازواج مطہرات کے ساتھ موجود تھے ‘ یہ سب لوگ کھانے کا انتظار کررہے تھے ‘ سب سے پہلے وہ (راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے انھوں نے سیدہ حفصہ کا ذکر کیا تھا) سیدہ حفصہ (رض) اپنے پیالے میں ثرید لے کے آئیں اور اسے وہاں رکھا ‘ تو سیدہ عائشہ (رض) باہر آئیں ‘ انھوں نے اس پیالے کو پکڑ کر (توڑدیا) ۔ راوی کہتے ہیں : یہ حجاب کا حکم نازل ہونے سے پہلے کی بات ہے۔ سیدہ عائشہ نے اسے پکڑکرتوڑدیا ‘ تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے ہاتھ سے اسے پکڑا اور اسے ملاتے ہوئے فرمایا (یہاں عمران نامی راوی نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کرکے یہ بات بتائی تھی کہ اس طرح ملایا) نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تمہاری امی کو غصہ آگیا تھا ‘ جب آپ کھاکرفارغ ہوئے تو آپ نے ایک صحیح پیالہ سیدہ حفصہ (رض) کو بھجوایا اور ٹوٹا ہواپیالہ سیدہ عائشہ (رض) کو دیا۔ گویا فیصلہ یہ ہوا کہ جو شخص کوئی چیزتوڑدے گا وہ اس کو ملے گی اور اس پر اسی کی مانندچیز کی ادائیگی لازم ہوگی۔