hadith book logo

Sunan Al Daraqutni: Hadith 4269

.

سنن الدارقطني

4269
Sunan Al Daraqutni
4269 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ حَدَّثَنِى صَالِحُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ التِّرْمِذِىُّ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِى زَائِدَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِى الْقَاسِمِ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ تَمِيمٌ الدَّارِىُّ وَعَدِىُّ بْنُ بَدَّاءٍ وَكَانَا يَخْتَلِفَانِ إِلَى مَكَّةَ بِالتِّجَارَةِ فَخَرَجَ رَجُلٌ مِنْ بَنِى سَهْمٍ فَتُوُفِّىَ بِأَرْضٍ لَيْسَ بِهَا مُسْلِمٌ فَأَوْصَى إِلَيْهِمَا فَدَفَعَا تَرِكَتَهُ إِلَى أَهْلِهِ وَحَبَسَا جَامًا مِنْ فِضَّةٍ مُخَوَّصًا بِالذَّهَبِ فَاسْتَحْلَفَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « مَا كَتَمْتُمَا وَلاَ اطَّلَعْتُمَا ». ثُمَّ عُرِفَ الْجَامُ بِمَكَّةَ فَقَالُوا اشْتَرَيْنَاهُ مِنْ عَدِىِّ بْنِ بَدَّاءٍ وَتَمِيمٍ فَقَدِمَ رَجُلاَنِ مِنْ أَوْلِيَاءِ السَّهْمِىِّ فَحَلَفَا بِاللَّهِ إِنَّ هَذَا الْجَامَ لِلسَّهْمِىِّ وَ (لَشَهَادَتُنَا أَحَقُّ مِنْ شَهَادَتِهِمَا وَمَا اعْتَدَيْنَا إِنَّا إِذًا لَمِنَ الظَّالِمِينَ ) فَأَخَذُوا الْجَامَ وَفِيهِمْ نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ.
4269 ۔ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) بیان کرتے ہیں : تمیم داری اور عدی بن بداء تجارت کے لیے مکہ آیا جایا کرتے تھے ‘ اسی دوران بنوسہم قبیلے سے تعلق رکھنے والاایک شخص جارہا تھا ‘ اس کا انتقال ایسی جگہ پر ہوگیا جہاں کوئی مسلمان نہیں رہتا تھا ‘ اس نے مرتے وقت ان دونوں کو وصیت کی کہ وہ اس کا مال اس کے گھروالوں تک پہنچادیں ‘ ان لوگوں نے اس میں سے چاندی کا یاک پیالہ روک لیا ‘ جس پر سونے کا کام کیا گیا تھا۔ جب یہ مقدمہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں پیش ہوا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں قسم اٹھانے کے لیے کہا اور فرمایا : تم اللہ کے نام کی قسم اٹھاکریہ بات کہو کہ تم نے اس میں سے کچھ بھی نہیں چھپایا ہے اور تمہیں اس کے بارے میں کوئی علم بھی نہیں ہے۔
اس کے بعد مکہ میں وہ پیالہ مل گیا تو جس شخص کے پاس سے ملا ‘ اس نے بتایا کہ میں نے یہ عدی بن بداء اور تمیم سے خریدا ہے ‘ تو سہم قبیلے سے تعلق رکھنے والے اس شخص کے وارثوں میں سے دو آدمی آگئے ‘ انھوں نے یہ قسم اٹھائی کہ یہ پیالہ سہم قبیلے کے اس شخص کا ہے اور ہم دونوں کی گواہی ان کی گواہی کے مقابلے میں زیادہ سچی ہے ‘ ہم نے کوئی زیادتی نہیں کی ہے ‘ ورنہ ایسی صورت میں ہمیں ظالم شمار کیا جائے ‘ چنانچہ ان وارثوں نے وہ پیالہ حاصل کرلیا اور ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی :