4330 - حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمَّادٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَسَنِ الْعَنْبَرِىُّ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ أَصَابَ عُمَرُ أَرْضًا بِخَيْبَرَ فَأَتَى النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ أَصَبْتُ أَرْضًا لَمْ أُصِبْ مَالاً قَطُّ هُوَ أَنْفَسُ عِنْدِى مِنْهُ فَكَيْفَ تَأْمُرُ فِيهِ قَالَ « إِنْ شِئْتَ حَبَسْتَ أَصْلَهَا وَتَصَدَّقْتَ بِهَا ». قَالَ فَتَصَدَّقَ بِهَا عُمَرُ أَنَّهُ لاَ يُبَاعُ وَلاَ يُوهَبُ وَلاَ يُورَثُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْقُرْبَى وَالرِّقَابِ وَفِى سَبِيلِ اللَّهِ وَالضَّيْفِ وَابْنِ السَّبِيلِ لاَ جُنَاحَ عَلَى مَنْ وَلِيَهَا أَنْ يَأْكُلَ مِنْهَا بِالْمَعْرُوفِ أَوْ يُطْعِمَ صَدِيقًا غَيْرَ مُتَمَوِّلٍ فِيهِ.
4330 ۔ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) کو خیبر میں ایک زمین ملی ‘ وہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی کہ مجھے ایسی زمین ملی ہے کہ اس سے پہلے اس سے زیادہ بہترین زمین نہیں ملی تو آپ اس بارے میں مجھے کیا حکم دیتے ہیں ؟ تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ اگر تم چاہوتو وہ زمین اپنے پاس رہنے دو اور اس کے پھل کو صدقہ کردو۔ راوی کہتے ہیں : تو حضرت عمر (رض) نے اس کے پھل کو صدقہ کردیا ‘ اس طرح کہ اس زمین کو فروخت نہیں کی جاسکتا ‘ ہبہ نہیں کی جاسکتا ‘ وراثت میں تقسیم نہیں کی جاسکتا ‘(اس کا پھل) غریبوں ‘ رشتے داروں ‘ غلاموں ‘ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والوں اور مسافروں کو ملے گا۔ جو شخص اس کا نگران ہوگا اسے کوئی گناہ نہیں ہوگا ‘ اگر وہ مناسب طورپر اس میں سے کھالیتا ہے ‘ یا اپنے کسی دوست کو کھلا دیتا ہے ‘ لیکن شرط یہ ہے کہ وہ مال جمع کرنے والا نہ ہو۔