4331 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ رُمَيْسٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ح وَأَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَلِىٍّ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ كَرَامَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ أَصَابَ عُمَرُ رضى الله عنه أَرْضًا بِخَيْبَرَ فَأَتَى النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَصَبْتُ مَالاً قَطُّ هُوَ أَنْفَسُ عِنْدِى مِنْهُ فَمَا تَأْمُرُنِى قَالَ « إِنْ شِئْتَ جَعَلْتَهَا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ حَبَسْتَ أَصْلَهَا وَتَصَدَّقْتَ بِهَا ». فَجَعَلَهَا عُمَرُ صَدَقَةً عَلَى الْفُقَرَاءِ وَفِى الْقُرْبَى وَفِى الرِّقَابِ وَابْنِ السَّبِيلِ وَالضَّيْفِ لاَ جُنَاحَ عَلَى مَنْ وَلِيَهَا أَنْ يَأْكُلَ بِالْمَعْرُوفِ وَيُطْعِمَ صَدِيقًا غَيْرَ مُتَمَوِّلٍ فِيهِ. قَالَ أَبُو أُسَامَةَ قَالَ بَعْضُ أَصْحَابِنَا عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ذَكَرْتُ حَدِيثَ نَافِعٍ لِمُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ فَقَالَ غَيْرَ مُتَأَثِّلٍ مَالاً. قَالَ وَحَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ قَالَ حَدَّثَنِى رَجُلٌ أَنَّهُ قَرَأَ تِلْكَ الرُّقْعَةَ فَكَانَ فِيهَا غَيْرَ مُتَأَثِّلٍ مَالاً. هَذَا حَدِيثُ أَبِى أُسَامَةَ.
4331 ۔ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں : حضرت عمر (رض) کو خیبر میں زمین ملی ‘ وہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے ‘ انھوں نے عرض کی : یارسول اللہ ! مجھے ایسا کوئی مال نہیں ملاجو میرے نزدیک اس سے زیادہ بہترہو ‘ تو آپ مجھے کیا ہدایت کرتے ہیں ؟ تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ اگر تم چاہوتوا سے اللہ کے نام پر وقف کر دو کہ اصل زمین تمہارے پاس رہے گی اور تم اس کے پھل کو صدقہ کردو۔ تو حضرت عمر (رض) نے اسے غریبوں ‘ قریبی رشتے داروں ‘ غلاموں ‘ مسافروں اور مہمانوں کے لیے صدقہ کردیا اور اس کے نگران پر کوئی گناہ نہیں ہوگا اگر وہ مناسب طریقے سے خود اس میں سے کھالیتا ہے یا اپنے کسی دوست کو کھلا دیتا ہے ‘ جبکہ وہ مال جمع کرنے والا نہ ہو۔
اس روایت کے ایک لفظ کے بارے میں راویوں نے اختلاف کیا ہے۔