4334 - قُرِئَ عَلَى مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ أَبِى الشَّوَارِبِ قِيلَ لَهُ سَمِعْتَ الْعَبَّاسَ بْنَ يَزِيدَ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ وَالأَنْصَارِىُّ قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ هَارُونَ الأَصْبَهَانِىُّ حَدَّثَنَا أَبُو مَسْعُودٍ أَحْمَدُ بْنُ الْفُرَاتِ أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ عُمَرَ رضى الله عنه قَالَ أَصَبْتُ أَرْضًا بِخَيْبَرَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّى أَصَبْتُ أَرْضًا مَا أَصَبْتُ مَالاً قَطُّ هُوَ أَنْفَسُ عِنْدِى مِنْهُ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « إِنْ شِئْتَ تَصَدَّقْتَ بِهَا وَحَبَسْتَ أَصْلَهَا ». قَالَ فَجَعَلَهَا عُمَرُ لاَ تُبَاعُ وَلاَ تُوهَبُ وَلاَ تُورَثُ وَتَصَدَّقَ بِهَا عَلَى الْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ وَالْغُزَاةِ فِى سَبِيلِ اللَّهِ وَفِى الرِّقَابِ وَالضَّيْفِ لاَ جُنَاحَ عَلَى مَنْ وَلِيَهَا أَنْ يَأْكُلَ مِنْهَا وَيُطْعِمَ صَدِيقًا غَيْرَ مُتَمَوِّلٍ فِيهِ مَالاً وَأَوْصَى بِهَا إِلَى حَفْصَةَ رضى الله عنها ثُمَّ إِلَى الأَكَابِرِ مِنْ آلِ عُمَرَ رضى الله عنه هَذَا لَفْظُ أَبِى مَسْعُودٍ.قَالَ أَبُو مَسْعُودٍ قَالُوا هَذَا أَجْوَدُ حَدِيثٍ رَوَاهُ ابْنُ عَوْنٍ. زَادَا مَعًا وَأَوْصَى بِهَا إِلَى حَفْصَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ ثُمَّ إِلَى الأَكَابِرِ مِنْ آلِ عُمَرَ.- قَالَ ابْنُ عَوْنٍ فَحَدَّثْتُ بِهِ ابْنَ سِيرِينَ فَقَالَ غَيْرَ مُتَأَثِّلٍ مَالاً.
4334 ۔ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے یہ بات بیان کی ہے کہ مجھے خیبر میں ایک زمین ملی تو میں نے عرض کی : یارسول اللہ ! مجھے ایسی زمین ملی ہے کہ میرے نزدیک اس سے بہترین زمین مجھے کبھی نہیں ملی۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ اگر تم چاہوتو اس کو صدقہ کردو اور اصل زمین اپنے پاس رہنے دو۔ راوی کہتے ہیں : تو حضرت عمر (رض) نے اس کو اس طرح کردیا کہ اسے فروخت نہیں کیا جاسکتا تھا ‘ ہبہ نہیں کیا جاسکتا تھا ‘ وراثت میں تقسیم نہیں کیا جاسکتا تھا اور اس کا پھل غریبوں ‘ مسکینوں ‘ مسافروں ‘ مجاہدین ‘ غلاموں اور مہمانوں کے لیے صدقہ تھا۔ جو شخص اس کا نگران تھے اسے کوئی گناہ نہ ہوتا ‘ اگر وہ خود اس میں سے کچھ کھالیتایا اپنے کسی دوست کو کھلا دیتا ‘ جبکہ وہ مال جمع کرنے والانہ ہوتا۔
حضرت عمر (رض) نے یہ وصیت سیدہ حفصہ (رض) کو کی تھی اور پھر اس کے بعد حضرت عمر (رض) کی اولاد سے تعلق رکھنے والے بڑی عمر کے افراد کو کی تھی۔
روایت کے یہ الفاظ ابومسعودنامی راوی کے ہیں ‘ تاہم دیگرراویوں نے اسے نقل کرنے میں کچھ لفظی اختلاف کیا ہے۔