4337 - حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ بَكَّارٍ الْكَلاَعِىُّ بِحِمْصَ حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ رَوْحٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ عَنِ الزُّبَيْدِىِّ عَنْ عَدِىِّ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِى هِنْدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْنٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ لَمَّا أَتَى عُمَرُ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ إِنِّى أَصَبْتُ أَرْضًا بِخَيْبَرَ مَا أَصَبْتُ مَالاً قَطُّ هُوَ أَنْفَسُ عِنْدِى مِنْهُ فَمَا تَأْمُرُ قَالَ « إِنْ شِئْتَ حَبَسْتَ أَصْلَهَا وَتَصَدَّقْتَ بِهَا ». قَالَ فَحَبَسَ عُمَرُ أَصْلَهَا وَتَصَدَّقَ بِهَا لاَ يُبَاعُ وَلاَ يُوهَبُ وَلاَ يُورَثُ فِى الْفُقَرَاءِ وَالْقُرْبَى وَالرِّقَابِ وَفِى سَبِيلِ اللَّهِ وَابْنِ السَّبِيلِ وَالضَّيْفِ لاَ جُنَاحَ عَلَى مَنْ وَلِيَهَا أَنْ يَأْكُلَ بِالْمَعْرُوفِ وَأَنْ يُطْعِمَ صَدِيقًا غَيْرَ مُتَمَوِّلٍ فِيهِ . وَرَوَاهُ الثَّوْرِىُّ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ عُمَرَ.
4337 ۔ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے ‘ انھوں نے عرض کی : مجھے خیبر میں زمین ملی ہے ‘ میرے نزدیک مجھے اس سے زیادہ بہترین زمین کبھی نہیں ملی ‘ آپ مجھے اس بارے میں کیا حکم دیتے ہیں ؟ تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اگر تم چاہوتواصل زمین کو اپنے پاس رہنے دو اور اس کے پھل کو صدقہ کردو۔ راوی کہتے ہیں : تو حضرت عمر (رض) نے اصل زمین کو اپنے پاس رکھا اور اس کے پھل کو صدقہ کردیا ‘ اس طرح کہ اس زمین کو فروخت نہیں کیا جاسکے گا ‘ ہبہ نہیں کیا جاسکے گا ‘ وراثت میں تقسیم نہیں کیا جاسکے گا اور اس کا پھل غریبوں ‘ قریبی رشتے داروں ‘ غلاموں ‘ مجاہدین ‘ مسافروں ‘ مہمانوں کے لیے ہوگا اور جو شخص اس کا نگران ہوگا ‘ اس پر کوئی گناہ نہیں ہوگا ‘ اگر وہ مناسب طریقے سے خود اس میں سے کچھ کھالیتا ہے یا اپنے کسی دوست کو کھلا دیتا ہے ‘ جبکہ وہ مال جمع کرنے والانہ ہو۔