4338 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ سَعْدَانَ بِوَاسِطٍ حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَيُّوبَ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحٍ الأَصْبَهَانِىُّ حَدَّثَنَا أَبُو مَسْعُودٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِىُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ أَصَبْتُ أَرْضًا مِنْ أَرْضِ خَيْبَرَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَصَبْتُ أَرَضًا لَمْ أُصِبْ مَالاً أَحَبَّ إِلَىَّ مِنْهُ وَلاَ أَنْفَسَ عِنْدِى مِنْهُ قَالَ « إِنْ شِئْتَ تَصَدَّقْتَ بِهَا وَأَمْسَكْتَ أَصْلَهَا ». قَالَ فَتَصَدَّقَ بِهَا عُمَرُ عَلَى أَنْ لاَ يُبَاعَ وَلاَ يُوهَبَ فِى الْفُقَرَاءِ وَالْقُرْبَى وَالضَّيْفِ وَالرِّقَابِ وَابْنِ السَّبِيلِ لاَ جُنَاحَ عَلَى مَنْ وَلِيَهَا أَنْ يَأْكُلَ بِالْمَعْرُوفِ غَيْرَ مُتَمَوِّلٍ مَالاً.
4338 ۔ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمربن خطاب (رض) نے یہ بات بیان کی ہے کہ مجھے خیبر میں زمین ملی ‘ میں نے عرض کی : یارسول اللہ ! مجھے ایسی زمین ملی ہے کہ میرے نزدیک اس سے زیادہ پسندیدہ زمین مجھے کبھی نہیں ملی اور اس سے زیادہ نفیس زمین کوئی نہیں ہے۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اگر تم چاہوتو اسے اس طرح صدقہ کرو کہ اصل زمین تمہارے پاس رہے۔
راوی کہتے ہیں : تو حضرت عمر (رض) نے اس زمین کو اس طرح صدقہ کیا کہ اسے فروخت نہیں کی جاسکے گا ‘ ہبہ بھی نہیں کیا جاسکے گا ‘ اس کا پھل غریبوں ‘ قریبی رشتے داروں ‘ غلاموں ‘ مہمانوں ‘ مسافروں کے لیے ہوگا جو شخص اس کا نگران ہوگا اس پر کچھ گناہ نہیں ہوگا ‘ اگر وہ مناسب طریقے سے خود بھی اس میں سے کھالیتا ہے ‘ جبکہ وہ مال جمع کرنے والا نہ ہو۔