4339 - حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ الْمِصْرِىُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِى مَرْيَمَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِىُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِىُّ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رضى الله عنه قَالَ أَصَبْتُ أَرْضًا مِنْ خَيْبَرَ مَا أَصَبْتُ مَالاً قَطُّ أَنْفَسَ عِنْدِى مِنْهُ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَسْتَأْمِرُهُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّى أَصَبْتُ أَرْضًا مِنْ خَيْبَرَ مَا أَصَبْتُ مَالاً أَنْفَسَ عِنْدِى مِنْهُ. قَالَ « إِنْ شِئْتَ حَبَسْتَ أَصْلَهَا وَتَصَدَّقْتَ بِهَا ». فَتَصَدَّقَ بِهَا عُمَرُ عَلَى أَنْ لاَ تُبَاعَ وَلاَ تُوهَبَ وَلاَ تُورَثَ فَتَصَدَّقَ بِهَا فِى الْفُقَرَاءِ وَفِى الأَقْرَبِينَ وَفِى سَبِيلِ اللَّهِ وَفِى الرِّقَابِ وَابْنِ السَّبِيلِ وَفِى الضَّيْفِ لاَ جُنَاحَ عَلَى مَنْ وَلِيَهَا أَنْ يَأْكُلَ بِالْمَعْرُوفِ وَيُعْطِىَ بِالْمَعْرُوفِ صَدِيقًا غَيْرَ مُتَمَوِّلٍ . قَالَ ابْنُ عَوْنٍ فَذَكَرْتُهُ لاِبْنِ سِيرِينَ فَقَالَ غَيْرَ مُتَأَثِّلٍ مَالاً. تَابَعَهُ أَبُو إِسْحَاقَ الْفَزَارِىُّ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ.
4339 ۔ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) ‘ حضرت عمربن خطاب (رض) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : مجھے خیبر میں ایک زمین ملی جو میرے نزدیک سب سے بہترین تھی ‘ میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہواتا کہ اس کے بارے میں آپ کی مرضی معلوم کروں ‘ میں نے عرض کی : یارسول اللہ ! مجھے خیبر میں زمین ملی ہے جو میرے نزدیک سب سے بہت رہے۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اگر تم چاہوتواصل زمین کو اپنے پاس رہنے دو اور اس کے پھل کو صدقہ کردو ‘ تو حضرت عمر (رض) نے اسے اس طرح صدقہ کیا کہ اسے فروخت نہیں کی جاسکتا تھا ‘ اسے ہبہ نہیں کیا جاسکتا تھا ‘ اسے وراثت میں تقسیم نہیں کیا جائے گا ‘ حضرت عمر (رض) نے اس کے پھل کو غریبوں ‘ قریبی رشتے داروں ‘ مجاہدین ‘ غلاموں ‘ مسافروں اور مہمانوں کے لیے صدقہ کیا اور جو شخص اس کا نگران ہو ‘ تو اسے کوئی گناہ نہیں ہوگا ‘ اگر وہ مناسب طریقے سے اس میں سے کچھ کھالیتا ہے یا مناسب طریقے سے اپنے کسی دوست کو کچھ دے دیتا ہے ‘ جبکہ وہ مال جمع کرنے والانہ ہو۔
یہاں روایت کے ایک لفظ کے بارے میں راویوں نے اختلاف کیا ہے۔