4362 - حَدَّثَنَا الْقَاضِى أَبُو عُمَرَ مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا شَبَابَةُ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِى إِسْحَاقَ عَنْ أَبِى سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ لَمَّا حُصِرَ عُثْمَانُ رضى الله عنه فِى الدَّارِ أَشْرَفَ عَلَيْهِمْ فَنَشَدَ النَّاسَ فَقَالَ هَلْ تَعْلَمُونَ أَنِّى كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- عَلَى حِرَاءٍ فَتَحَرَّكَ فَقَالَ « اثْبُتْ حِرَاءُ فَإِنَّهُ لَيْسَ عَلَيْكَ إِلاَّ نَبِىٌّ أَوْ صِدِّيقٌ أَوْ شَهِيدٌ ». قَالَ فَشَهِدَ لَهُ نَاسٌ ثُمَّ قَالَ أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « مَنْ يُوَسِّعُ لَنَا بَيْتًا فِى الْمَسْجِدِ ». فَاشْتَرَيْتُ بَيْتًا فَأَوْسَعْتُ بِهِ فِى الْمَسْجِدِ قَالَ فَشَهِدَ لَهُ نَاسٌ ثُمَّ قَالَ أَنْشُدُكُمُ اللَّهَ أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رُومَةَ كَانَتْ تُبَاعُ بَيْعًا مِنِ ابْنِ السَّبِيلِ وَأَنِّى اشْتَرَيْتُهَا فَجَعَلْتُهَا لِلَّهِ تَعَالَى وَابْنِ السَّبِيلِ قَالُوا نَعَمْ فَشَهِدَ لَهُ نَاسٌ ثُمَّ قَالَ أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ أَتَعْلَمُونَ أَنِّى جَهَّزْتُ جَيْشَ الْعُسْرَةِ وَأَنْفَقْتُ عَلَيْهِ كَذَا وَكَذَا فَشَهِدَ لَهُ نَاسٌ ثُمَّ قَالَ وَلَكِنَّهُ طَالَ عَلَيْكُمْ عُمْرِى وَاسْتَعْجَلْتُمْ قَدَرِى أَنْ أَنْزِعَ سِرْبَالاً سَرْبَلَنِيهِ اللَّهُ تَعَالَى لاَ وَاللَّهِ لاَ يَكُونُ ذَلِكَ أَبَدًا.
4362 ۔ حضرت ابوسلمہ بن عبدالرحمن بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت عثمان غنی (رض) کو ان کے گھر میں محصور کردیا گیا تو انھوں نے لوگوں کی طرف جھانک کر دیکھا اور لوگوں کو قسم دی ‘ وہ بولے : کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو کہ میں حراپہاڑ کے اوپر نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھا ‘ وہ حرکت میں آنے لگا تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : حرا اپنی جگہ پر رہو ‘ تمہارے اوپر ایک نبی ‘ ایک صدیق اور ایک شہیدموجود ہے۔
راوی کہتے ہیں کہ لوگوں نے ان کی اس بات کی تصدیق کی ‘ پھر حضرت عثمان غنی (رض) نے فرمایا : کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی تھی : کون شخص مسجد میں گھرکا اضافہ کرے گا ‘ تو میں نے ایک گھرخریدا اور اس کے ذریعے مسجد میں توسیع کروادی تو لوگوں نے ان کی بات کی تصدیق کی ‘ پھر حضرت عثمان غنی (رض) نے فرمایا : میں تم لوگوں کو اللہ کے نام کی قسم دے کر دریافت کرتا ہوں کہ کیا آپ لوگ یہ بات جانتے ہیں کہ رومہ کنوئیں کا پانی صرف مسافروں کو فروخت کیا جاتا تھا ‘ میں نے اس کنوئیں کو خریدا اور اسے اللہ کے نام پر وقف کردیا۔ لوگوں نے جواب دیا : جی ہاں ! لوگوں نے ان کی اس بات کی تصدیق کی ‘ پھر حضرت عثمان غنی (رض) نے فرمایا : میں آپ لوگوں کو اللہ کے نام کی قسم دے کر دریافت کرتا ہوں ! کیا آپ لوگ یہ بات جانتے ہیں کہ میں نے غزوہ تبوک کے لیے سامان فراہم کیا تھا اور میں نے اس پر اتنی ‘ اتنی رقم خرچ کی تھی تو لوگوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی تھی ‘ پھر حضرت عثمان غنی (رض) نے فرمایا : میں اتنا عرصہ تمہارے درمیان رہاہوں لیکن تم نے میرے بارے میں جلدی بازی کا مظاہرہ کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو خلعت مجھے پہنائی ہے میں اسے اتاردوں۔ اللہ کی قسم ! یہ کبھی نہیں ہوگا۔