4363 - حَدَّثَنَا أَبُو سَهْلٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ حَدَّثَنِى أَبِى حَدَّثَنَا أَبُو قَطَنٍ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِى إِسْحَاقَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِى سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ أَشْرَفَ عُثْمَانُ مِنَ الْقَصْرِ وَهُوَ مَحْصُورٌ فَقَالَ نَشَدْتُ اللَّهَ تَعَالَى مَنْ شَهِدَ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَوْمَ حِرَاءٍ إِذِ اهْتَزَّ الْجَبَلُ فَرَكَلَهُ بِقَدَمِهِ وَقَالَ « اسْكُنْ حِرَاءُ لَيْسَ عَلَيْكَ إِلاَّ نَبِىٌّ أَوْ صِدِّيقٌ أَوْ شَهِيدٌ ». وَأَنَا مَعَهُ فَانْتَشَدَ لَهُ رِجَالٌ قَالَ نَشَدْتُ اللَّهَ مَنْ شَهِدَ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَوْمَ بَيْعَةِ الرِّضْوَانِ إِذْ بَعَثَنِى إِلَى الْمُشْرِكِينَ إِلَى أَهْلِهِ قَالَ « هَذِهِ يَدِى وَهَذِهِ يَدُ عُثْمَانَ ». فَبَايَعَ لِى فَانْتَشَدَ لَهُ رِجَالٌ فَقَالَ نَشَدْتُ اللَّهَ مَنْ شَهِدَ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « مَنْ يُوَسِّعُ لَنَا هَذَا الْبَيْتَ فِى الْمَسْجِدِ بِبَيْتٍ فِى الْجَنَّةِ ». فَابْتَعْتُهُ مِنْ مَالِى فَوَسَّعْتُ بِهِ فِى الْمَسْجِدِ فَانْتَشَدَ لَهُ رِجَالٌ قَالَ وَنَشَدْتُ اللَّهَ مَنْ شَهِدَ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَوْمَ جَيْشِ الْعُسْرَةِ قَالَ « مَنْ يُنْفِقُ الْيَوْمَ نَفَقَةً مُتَقَبَّلَةً ». فَجَهَّزْتُ نِصْفَ الْجَيْشِ مِنْ مَالِى فَانْتَشَدَ لَهُ رِجَالٌ قَالَ وَنَشَدْتُ اللَّهَ مَنْ شَهِدَ رُومَةَ يُبَاعُ مَاؤُهَا لاِبْنِ السَّبِيلِ فَابْتَعْتُهَا مِنْ مَالِى وَأَبَحْتُهَا ابْنَ السَّبِيلِ فَانْتَشَدَ لَهُ رِجَالٌ.
4363 ۔ ابوسلمہ بن عبدالرحمن بیان کرتے ہیں کہ حضرت عثمان (رض) نے اپنے گھر میں سے جھانک کر باہردیکھاوہ اس وقت محصور تھے اور بولے : میں اللہ کے نام کی قسم دے کر تم لوگوں سے یہ پوچھتا ہوں کہ کون شخص اس وقت وہاں موجود تھا ؟ جب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حراپہاڑپرموجود تھے اور وہ پہاڑحرکت کرنے لگا تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے پاؤں کے ذریعے اسے مارا اور فرمایا : اے حرا ! ساکن رہو ‘ تمہارے اوپر ایک نبی ‘ ایک صدیق اور ایک شہید موجود ہے۔ اس وقت میں بھی نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھا تو کچھ لوگوں نے اس بات کی گواہی دی (کہ یہ بات ٹھیک ہے) پھر حضرت عثمان غنی (رض) نے فرمایا : جو شخص اس وقت نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس موجود تھا ‘ جب آپ نے بیعت رضوان کی تھی ‘ اس کو میں اللہ کے نام کا واسطہ دے کر یہ پوچھتاہوں کہ جب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے مشرکین کی طرف بھیجا تھا تو آپ نے یہ ارشاد فرمایا تھا کہ یہ میرا ہاتھ ہے اور یہ عثمان کا ہاتھ ہے۔ پھر نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میری طرف سے بیعت لی تھی ‘ کچھ لوگوں نے ان کی اس بات کی بھی تصدیق کی ‘ پھر حضرت عثمان غنی (رض) نے فرمایا : میں اس شخص کو اللہ کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں جو شخص اس وقت موجود تھا کہ جب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی تھی : کون شخص اس گھرکوخرید کرا سے مسجد میں شامل کردے گا ‘ اس کے عوض میں اسے جنت میں گھرملے گا تو میں نے اپنے مال میں سے اس گھرکوخرید کر اس کے ذریعے اس مسجد میں توسیع کروادی تو کچھ لوگوں نے ان کی اس بات کی تصدیق کی۔ پھر حضرت عثمان غنی (رض) نے فرمایا : میں اس شخص کو اللہ کے نام کا واسطہ دے کر پوچھتاہوں جو اس وقت نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس موجود تھا ‘ جب آپ غزوہ تبوک کے لیے تیاری کررہے تھے ‘ آپ نے ارشاد فرمایا تھا : کون شخص آج کے دن ایساخرچ کرے گا جو قبول ہوگا ؟ تو میں نے نصف لشکر کو اپنے مال میں سے سازوسامان فراہم کیا تھا ‘ کچھ لوگوں نے ان کی اس بات کی بھی تصدیق کی۔
پھر حضرت عثمان غنی (رض) نے فرمایا : میں اس شخص کو اللہ کے نام کا واسطہ دے کر پوچھتاہوں ‘ جو اس وقت موجود تھا جب رومہ کا پانی صرف مسافروں کو فروخت کیا جاتا تھا تو میں نے اپنے مال میں سے اس کو خرید کرا سے مسافروں کے لیے (اور تمام مسلمانوں کے لیے) وقف کردیا تھا ‘ تو کچھ لوگوں نے ان کی اس بات کی بھی تصدیق کی۔