hadith book logo

Sunan Al Daraqutni: Hadith 4366

.

سنن الدارقطني

4366
Sunan Al Daraqutni
4366 - حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ الأَصْبَهَانِىُّ حَدَّثَنَا أَبُو مَسْعُودٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِى أُنَيْسَةَ عَنْ أَبِى إِسْحَاقَ عَنْ أَبِى عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِىِّ قَالَ لَمَّا حُصِرَ عُثْمَانُ أَشْرَفَ عَلَيْهِمْ مِنْ فَوْقِ دَارِهِ فَقَالَ أُذَكِّرُكُمْ بِاللَّهِ أَلَمْ تَعْلَمُوا أَنَّ حِرَاءً حِينَ انْتَفَضَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « اثْبُتْ حِرَاءُ فَإِنَّمَا عَلَيْكَ نَبِىٌّ أَوْ صِدِّيقٌ أَوْ شَهِيدٌ ». قَالُوا نَعَمْ. قَالَ أُذَكِّرُكُمْ بِاللَّهِ أَلَمْ تَعْلَمُوا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- حِينَ جَهَّزَ جَيْشَ الْعُسْرَةِ قَالَ « مَنْ يُنْفِقُ نَفَقَةً مُتَقَبَّلَةً ». وَالنَّاسُ مَجْهُودُونَ مُعْسِرُونَ فَجَهَّزْتُ ثُلُثَ ذَلِكَ الْجَيْشِ قَالُوا نَعَمْ قَالَ أُذَكِّرُكُمْ بِاللَّهِ أَلَمْ تَعْلَمُوا أَنَّ بِئْرَ رُومَةَ لَمْ يَكُنْ يُشْرَبُ مِنْهَا إِلاَّ بِثَمَنٍ فَاشْتَرَيْتُهَا ثُمَّ جَعَلْتُهَا لِلْغَنِىِّ وَالْفَقِيرِ وَابْنِ السَّبِيلِ قَالُوا نَعَمْ. فِى أَشْيَاءَ عَدَّدَهَا .
4366 ۔۔ ابوعبدالرحمن سلمی بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت عثمان غنی (رض) کو محصور کردیا گیا تو انھوں نے اپنے گھر کی چھت سے لوگوں کی طرف جھانک کر دیکھا اور فرمایا : میں تم لوگوں کو اللہ کی یاددلاتا ہوں ‘ کیا تم لوگ یہ بات نہیں جانتے ہو کہ جب حراپہاڑہلنے لگا تھا تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا تھا : اے حرا ! اپنی جگہ پر رہو ! تمہارے اوپر ایک نبی ‘ ایک صدیق اور ایک شہید موجود ہے۔ لوگوں نے جواب دیا : جی ہاں ! تو حضرت عثمان غنی (رض) نے فرمایا : میں تمہیں اللہ کی یاد دلاتاہوں ‘ کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جب غزوہ تبوک کے لیے سامان فراہم کرنا شروع کیا تھا تو آپ نے ارشاد فرمایا تھا : کون شخص ایسا خرچ کرے گا جو قبول ہوگا ‘ تو لوگ اس وقت تنگی کا شکار تھے تو میں نے اس لشکر کو ایک تہائی سامان فراہم کیا تھا ‘ لوگوں نے جواب دیا : ایساہی ہے۔ حضرت عثمان غنی (رض) نے فرمایا : میں آپ کو اللہ کی یاددلا کر دریافت کرتا ہوں کہ کیا آپ لوگ یہ بات نہیں جانتے ہیں کہ رومہ کنوئیں سے پانی صرف قیمت کے عوض میں پیا جاسکتا تھا تو میں نے اسے خرید کرا سے ہر خوشحال ‘ غریب اور مسافر کے لیے وقف کردیا تھا تو ان لوگوں نے جواب دیا : جی ہاں !
اس کے بعد حضرت عثمان غنی (رض) نے کچھ اور چیزوں کو بھی شمارکروایا۔