4440 - حَدَّثَنِى أَبِى حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَاجِيَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ أَبِى عُمَرَ حَدَّثَنَا فَرَجُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ عَلْقَمَةَ بْنِ أَبْيَضَ بْنِ حَمَّالٍ حَدَّثَنِى عَمِّى ثَابِتُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبْيَضَ بْنِ حَمَّالٍ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ أَبْيَضَ بْنِ حَمَّالٍ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِيهِ أَبْيَضَ بْنِ حَمَّالٍ أَنَّهُ اسْتَقْطَعَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- الْمِلْحَ الَّذِى يُقَالُ لَهُ مِلْحُ شَذَا بِمَأْرِبَ فَقَطَعَهُ لَهْ ثُمَّ إِنَّ الأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ التَّمِيمِىَّ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّى قَدْ وَرَدْتُ الْمِلْحَ فِى الْجَاهِلِيَّةِ وَهُوَ بِأَرْضٍ لَيْسَ بِهَا مَاءٌ وَمَنْ وَرَدَهُ أَخَذَهُ وَهُوَ مِثْلُ الْمَاءِ الْعِدِّ فَاسْتَقَالَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- أَبْيَضَ بْنَ حَمَّالٍ فِى قَطِيعَتِهِ مِنْهُ قَالَ أَبْيَضُ قَدْ أَقَلْتُكَ مِنْهُ عَلَى أَنْ تَجْعَلَهُ مِنِّى صَدَقَةً. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « هُوَ مِنْكَ صَدَقَةٌ وَهُوَ مِثْلُ الْمَاءِ الْعِدِّ وَمَنْ وَرَدَهُ أَخَذَهُ ». قَالَ الْفَرَجُ وَهُوَ الْيَوْمَ عَلَى ذَلِكَ مَنْ وَرَدَهُ أَخَذَهُ فَقَطَعَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَرْضًا وَنَخِيلاً بِالْجُرْفِ جُرْفِ مُرَادٍ حِينَ أَقَالَهُ مِنْهُ.
4440 ۔ حضرت ابیض بن حمال بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے درخواست کی کہ آپ ” مآرب “ کے مقام پر موجود ” ملح شذا “ نام کا (قطعہ اراضی) انھیں عطاء کردیں ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وہ جگہ انھیں عطاء کردی ‘ اس کے بعد اقرع بن حابس تمیمی نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں عرض کی : یارسول اللہ ! میں زمانہ جاہلیت میں اس مقام تک پہنچ گیا تھا ‘ یہ وہ جگہ تھی جہاں پانی کا نام ونشان نہیں تھا جو شخص وہاں پہنچ جاتا تھا وہ وہاں قبضہ کرلیتا تھا ‘ اس کی مثال بہتے ہوئے پانی کی تھی۔ تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابیض بن حمال سے وہ جگہ واپس لے لی تو حضرت ابیض نے عرض کی کہ میں یہ اس شرط پر واپس کررہاہوں کہ یہ میری طرف سے صدقہ شمارہوگی۔ تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی : یہ تمہاری طرف سے صدقہ شمارہوگی لیکن اس کی مثال بہتے ہوئے پانی کی سی ہے ‘ جو شخص اس تک پہنچ جائے گا وہ اسے حاصل کرلے گا۔
فرخ نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے کہ وہ جگہ آج بھی اسی طرح ہے جو شخص وہاں پہنچ جاتا ہے وہ اسے حاصل کرلیتا ہے۔ پھر نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابیض بن حمال کو ” جرف “ کے مقام پر جو ” جرف مراد “ ہے ‘ وہاں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو کھجوروں کا باغ عنایت کیا ‘ یہ اس پہلی زمین کے بدلے میں تھا۔