4486 - حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِىُّ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَهْمِىُّ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ حَدَّثَنِى يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ وَرَبِيعَةُ عَنْ يَزِيدَ مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِىِّ قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- عَنِ اللُّقَطَةِ الذَّهَبِ وَالْوَرِقِ قَالَ « اعْرِفْ عِفَاصَهَا وَوِكَاءَهَا وَعَرِّفْهَا سَنَةً فَإِنْ لَمْ تَعْرِفْ فَاسْتَعِنْ بِهَا وَلْتَكُنْ وَدِيعَةً عِنْدَكَ فَإِنْ جَاءَ لَهَا طَالِبٌ يَوْمًا مِنَ الدَّهْرِ فَأَدِّهَا إِلَيْهِ ».وَسَأَلَهُ عَنْ ضَالَّةِ الإِبِلِ قَالَ « مَا لَكَ وَمَا لَهَا دَعْهَا فَإِنَّ مَعَهَا حِذَاءَهَا وَسِقَاءَهَا تَرِدُ الْمَاءَ وَتَأْكُلُ الشَّجَرَ حَتَّى يَجِدَهَا رَبُّهَا ». وَسَأَلَهُ عَنِ الشَّاةِ فَقَالَ « خُذْهَا فَإِنَّهَا لَكَ أَوْ لأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ ».
4486 ۔ حضرت زید بن خالد جہنی (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے گرے ہوئے (ملنے والے) سونے یا چاندی کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اس (تھیلی) کے منہ پر بندھے ہوئے دھاگے کے نشان کو یاد رکھو اور ایک سال تک اس کا اعلان کرو ‘ اگر پتانہ چل سکے تو اس کو استعمال کرلو ‘ یہ تمہارے پاس ودیعت کے طورپر رہے گی ‘ کسی بھی زمانے میں کسی بھی وقت اگر اس کا مالک آگیا تو تم اس کو اداکردوگے۔
نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے گم شدہ اونٹ کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : تمہارا اس کے ساتھ کیا واسطہ ہے ! اسے وہی پر رہنے دو ‘ اس کا پیٹ اس کے پاؤں اس کے ساتھ ہیں وہ خودپانی تک پہنچ جائے گا اور پتے کھالے گا ‘ یہاں تک کہ اس کا مالک اس کو پالے گا۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے (گم شدہ) بکری کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا : یا وہ تمہیں ملے گی یا تمہارے کسی بھائی کو ملے گی یا پھر بھیڑیئے کو مل جائے گی۔