450 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا حَمْزَةُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْمَرْوَزِىُّ حَدَّثَنَا عَبْدَانُ حَدَّثَنَا أَبُو حَمْزَةَ قَالَ حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عِمْرَانَ حَدَّثَنِى الزُّهْرِىُّ قَالَ سَأَلْتُ عُرْوَةَ عَنِ الَّذِى يُجَامِعُ وَلاَ يُنْزِلُ فَقَالَ قَوْلُ النَّاسِ أَنْ يَأْخُذُوا بِالآخِرِ مِنْ أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَحَدَّثَتْنِى عَائِشَةُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- كَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ وَلاَ يَغْتَسِلُ وَذَلِكَ قَبْلَ فَتْحِ مَكَّةَ ثُمَّ اغْتَسَلَ بَعْدَ ذَلِكَ وَأَمَرَ النَّاسَ بِالْغُسْلِ .
زہری بیان کرتے ہیں : میں نے عروہ سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کیا جو صحبت کرتا ہے، لیکن اسے انزال نہیں ہوتا تو عروہ نے جواب دیا : لوگوں کی رائے یہ ہے، وہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آخری حکم کو اختیار کرتے ہیں۔
سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) نے مجھے یہ بات بتائی ہے : نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پہلے ایسا ہی کیا کرتے تھے اور غسل نہیں کرتے تھے، لیکن یہ مکہ فتح ہونے سے پہلے کی بات ہے۔ اس کے بعد آپ نے غسل کرنا شروع کیا اور لوگوں کو بھی (ایسی صورتحال میں) غسل کرنے کی ہدایت کی۔