451 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِىِّ بْنِ الْعَلاَءِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شَوْكَرِ بْنِ رَافِعٍ الطُّوسِىُّ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الضَّرِيرُ إِبْرَاهِيمُ بْنُ زَكَرِيَّا حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ حَمَّادٍ عَنْ عَلِىِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ قَالَ أَتَى عَلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَأَنَا عَلَى بِئْرٍ أَدْلُو مَاءً فِى رِكْوَةٍ لِى فَقَالَ يَا عَمَّارُ مَا تَصْنَعُ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِأَبِى وَأُمِّى أَغْسِلُ ثَوْبِى مِنْ نُخَامَةٍ أَصَابَتْهُ فَقَالَ « يَا عَمَّارُ إِنَّمَا يُغْسَلُ الثَّوْبُ مِنْ خَمْسٍ مِنَ الْغَائِطِ وَالْبَوْلِ وَالْقَىْءِ وَالدَّمِ وَالْمَنِىِّ يَا عَمَّارُ مَا نُخَامَتُكَ وَدُمُوعُ عَيْنَيْكَ وَالْمَاءُ الَّذِى فِى رِكْوَتِكَ إِلاَّ سَوَاءٌ ». لَمْ يَرْوِهِ غَيْرُ ثَابِتِ بْنِ حَمَّادٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا وَإِبْرَاهِيمُ وَثَابِتٌ ضَعِيفَانِ.
حضرت عمار بن یاسر (رض) بیان کرتے ہیں : نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے پاس تشریف لائے ، میں اس وقت ایک کنوئیں کے کنارے ایک ڈول سے پانی نکال رہا تھا، آپ نے فرمایا : اے عمار ! کیا کررہے ہو ؟ میں نے عرض کی : یارسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ! میں اپنے کپڑے پر لگی ہوئی بلغم کو دھونا چاہ رہا ہوں، تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اے عمار ! کپڑے کو پانچ وجہ سے دھویا جاتا ہے : پاخانہ لگا ہو، پیشاب لگا ہو، قے لگی ہو، خون لگا ہو یا منی لگی ہو۔ اے عمار ! تمہاری بلغم، تمہارے آنسو اور تمہاری چھاگل میں موجود پانی ایک جیسی حیثیت رکھتے ہیں۔
اس روایت کو صرف ثابت بن حماد نے نقل کیا ہے اور یہ بہت زیادہ ضعیف ہے۔ اس روایت کے دو راوی ابراہیم اور ثابت دونوں ضعیف ہیں۔