4612 - حَدَّثَنَا أَبُو حَامِدٍ مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ الْحَضْرَمِىُّ حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِى الْمُجَالِدِ الْمِصِّيصِىُّ ح وَأَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْمَحَامِلِىُّ حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى الْقَطَّانُ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِىٍّ مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ وَأَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بَحْرٍ الْعَطَّارُ جَمِيعًا بِالْبَصْرَةِ قَالاَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ قَالُوا حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَمَانٍ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ خَالِدِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِى مَسْعُودٍ الأَنْصَارِىِّ قَالَ عَطِشَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- حَوْلَ الْكَعْبَةِ فَاسْتَسْقَى فَأُتِىَ بِنَبِيذٍ مِنَ السِّقَايَةِ فَشَمَّهُ فَقَطَّبَ فَقَالَ « عَلَىَّ بِذَنُوبٍ مِنْ زَمْزَمَ ». فَصَبَّهُ عَلَيْهِ ثُمَّ شَرِبَ فَقَالَ رَجُلٌ حَرَامٌ هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ « لاَ ».
لَفْظُ أَبِى حَامِدٍ وَالشَّهِيدِىِّ وَقَالَ الْمَحَامِلِىُّ وَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَلَمْ يُتِمَّهُ .
4612 ۔ حضرت ابو مسعود انصاری (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خانہ کعبہ کے پاس پیاس محسوس ہوئی ‘ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پینے کے لیے کچھ مانگاتو آپ کی خدمت میں مشکیزے میں سے نبی ذلائی گئی ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے سونگھا ‘ پھر آپ نے فرمایا : میرے پاس زم زم کا ایک ڈول لے کے آؤ ! نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وہ پانی اس میں ملادیا ‘ پھر اسے پی لیا ‘ ایک شخص نے عرض کی : یارسول اللہ ! کیا یہ حرام ہے ؟ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جی نہیں !