hadith book logo

Sunan Al Daraqutni: Hadith 4611

.

سنن الدارقطني

4611
Sunan Al Daraqutni
4611 - حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ الزَّيَّاتُ حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ أَبِى إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِىِّ عَنْ مَالِكِ بْنِ الْقَعْقَاعِ قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنِ النَّبِيذِ الشَّدِيدِ فَقَالَ جَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فِى مَجْلِسٍ فَوَجَدَ مِنْ رَجُلٍ رِيحَ نَبِيذٍ فَقَالَ « مَا هَذِهِ الرِّيَاحُ ». قَالَ رِيحُ نَبِيذٍ. قَالَ « فَأَرْسِلْ فَلْيُؤْتَ مِنْهُ ». فَأَرْسَلَ فَأُتِىَ بِهِ فَوَضَعَ فِيهِ رَأْسَهُ فَشَمَّهُ ثُمَّ رَجَعَ فَرَدَّهُ - قَالَ - حَتَّى إِذَا قَطَعَ الرَّجُلُ الْبَطْحَاءَ رَجَعَ فَقَالَ أَحَرَامٌ هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمْ حَلاَلٌ قَالَ فَوَضَعَ رَأْسَهُ فِيهِ فَوَجَدَهُ شَدِيدًا فَصَبَّ عَلَيْهِ الْمَاءَ ثُمَّ شَرِبَ ثُمَّ قَالَ « إِذَا اغْتَلَمَتْ أَسْقِيَتُكُمْ فَاكْسِرُوهَا بِالْمَاءِ ». كَذَا قَالَ مَالِكُ بْنُ الْقَعْقَاعِ وَقَالَ غَيْرُهُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ نَافِعِ ابْنِ أَخِى الْقَعْقَاعِ وَهُوَ رَجُلٌ مَجْهُولٌ ضَعِيفٌ وَالصَّحِيحُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « مَا أَسْكَرَ كَثِيرُهُ فَقَلِيلُهُ حَرَامٌ ». وَقَدْ تَقَدَّمَ ذِكْرُهُ.
4611 ۔ مالک بن ثقفی بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عمر (رض) سے تیزنبیذ کے بارے میں دریافت کیا تو انھوں نے فرمایا : ایک مرتبہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک محفل میں بیٹھے ہوئے تھے ‘ آپ کو ایک شخص سے نبی ذکی بومحسوس ہوئی ‘ آپ نے دریافت کیا : یہ کس چیز کی بو ہے ‘ اس نے عرض کی : یہ نبی ذکی بو ہے۔ تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم کے تحت وہ نبیذ منگوائی گئی ‘ اس شخص نے وہ نبیذ بھجوائی ‘ وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں لائی گئی ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنا چہرہ مبارک اس کے پاس لے گئے اور اسے سونگھا ‘ پھر آپ چہرہ واپس لے آئے اور اس کو واپس کردیا۔ جب وہ شخص بطحا سے جاچکا تھا تو وہ شخص پھر واپس آیا اور اس نے دریافت کیا : کیا یہ حرام ہے یا حلال ہے ؟ تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا سر مبارک پھر اس کے قریب کیا اور اس کی تیزبوکومحسوس کرکے اس میں پانی ملادیا ‘ پھر اسے پی لیا ‘ آپ نے ارشاد فرمایا : جب تمہارے مشکیزوں میں جوش پیدا ہوجائے تو اسے پانی کے ذریعے ختم کرو۔
یہ روایت اسی طرح منقول ہے ‘ تاہم حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کے حوالے سے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مستند طورپر یہ بات منقول ہے : جس چیز کی زیادہ مقدار نشہ پیداکرے ‘ اس کی تھوڑی مقدار بھی حرام ہوتی ہے۔
یہ روایت پہلے گزرچکی ہے۔