4712 - حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ حَدَّثَنَا أَبُو الأَشْعَثِ أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا حَبِيبٌ الْمُعَلِّمُ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَجُلاً أَتَى النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- يُقَالُ لَهُ أَبُو ثَعْلَبَةَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِى كِلاَبًا مُكَلَّبَةً فَأَفْتِنِى فِى صَيْدِهَا فَقَالَ « إِنْ كَانَتْ كِلاَبًا مُكَلَّبَةً فَكُلْ مِمَّا أَمْسَكْنَ عَلَيْكَ ». قَالَ ذَكِىٌّ وَغَيْرُ ذَكِىٍّ قَالَ « ذَكِىٌّ وَغَيْرُ ذَكِىٍّ ». قَالَ وَإِنْ أَكَلَ مِنْهُ قَالَ « وَإِنْ أَكَلَ مِنْهُ ». قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفْتِنِى فِى قَوْسِى قَالَ « كُلْ مَا رَدَّتْ عَلَيْكَ قَوْسُكَ ». قَالَ ذَكِيًّا وَغَيْرَ ذَكِىٍّ قَالَ « ذَكِيًّا وَغَيْرَ ذَكِىٍّ ». قَالَ وَإِنْ تَغَيَّبَ عَنِّى قَالَ « وَإِنْ تَغَيَّبَ عَنْكَ مَا لَمْ يَصِلَّ أَوْ تَجِدْ فِيهِ أَثَرَ غَيْرِ أَثَرِ سَهْمِكَ ». قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفْتِنِى فِى آنِيَةِ الْمَجُوسِ إِذَا اضْطُرِرْنَا إِلَيْهَا. قَالَ « اغْسِلْهَا ثُمَّ كُلْ فِيهَا ».
4712 ۔ عمروبن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے داداکایہ بیان نقل کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضرہوا ‘ اس کا نام ابوثعلبہ تھا ‘ اس نے عرض کی : یارسول اللہ ! میرے پاس کچھ تربیت یافتہ کتے ہیں ‘ آپ ان کے ذریعے شکار کرنے کے بارے میں مجھے بتائیں ! تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اگر تو تمہارے کتے تربیت یافتہ ہیں تو جس شکارکو وہ تمہارے لیے روک لیتے ہیں تم اسے کھالو ‘ خواہ اسے ذبح کرنے کا موقع ملے یاذبح کرنے کا موقع نہ ملے۔ اس شخص نے دریافت کیا : اگر وہ کتاخود اس میں سے کچھ کھالیتا ہے ؟ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگرچہ وہ خود اس میں سے کچھ کھالے (تو بھی تم اسے کھاسکتے ہو) ۔ اس شخص نے عرض کی : یارسول اللہ ! آپ مجھے میری کمان کے بارے میں بتائیں ! نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تمہاری کمان (یعنی تیر) جس چیزکوروک دیتا ہے اسے تم کھالو ‘ انھوں نے دریافت کیا : خواہ اسے ذبح کیا گیا ہو یا ذبح نہ کیا گیا ہو ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اسے ذبح کیا گیا ہو یا ذبح کیا گیا ہو ‘ اس شخص نے دریافت کیا : اگر وہ شکار مجھ سے روپوش ہوجاتا ہے ؟ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر وہ تم سے روپوش ہوجاتا ہے ‘ تو جب تک وہ گم نہیں ہوتا ‘ جب تک تم اس میں اپنے تیر کے علاوہ کوئی اور نشان نہیں پاتے (تو تم اسے کھاسکتے ہو) ۔ اس شخص نے عرض کی : یارسول اللہ ! آپ مجھے مجوسیوں کے برتنوں کے بارے میں بتائیں کہ جب ہم مجبوری کے تحت انھیں استعمال کریں ؟ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : تم انھیں دھو کر پھر ان میں کھاسکتے ہو۔