4713 - حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّازُ وَمُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ هَارُونَ الْعَسْكَرِىُّ وَالْحَسَنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الرَّبِيعِ الأَنْمَاطِىُّ قَالُوا حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ الْمُهَلَّبِىُّ عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ عَنِ الشَّعْبِىِّ عَنْ عَدِىِّ بْنِ حَاتِمٍ أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ أَرْمِى بِسَهْمِى فَأُصِيبُ فَلاَ أَقْدِرُ عَلَيْهِ إِلاَّ بَعْدَ يَوْمٍ أَوْ يَوْمَيْنِ فَقَالَ « إِذَا قَدَرْتَ عَلَيْهِ وَلَيْسَ فِيهِ أَثَرٌ وَلاَ خَدْشٌ إِلاَّ رَمْيَتُكَ فَكُلْ وَإِنْ وَجَدْتَ فِيهِ أَثَرَ غَيْرِ رَمْيَتِكَ فَلاَ تَأْكُلْهُ - أَوْ قَالَ لاَ تَطْعَمْهُ - فَإِنَّكَ لاَ تَدْرِى أَنْتَ قَتَلْتَهُ أَوْ غَيْرُكَ وَإِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ فَأَخَذَ فَأَدْرَكْتَهُ فَذَكِّهِ وَإِنْ وَجَدْتَهُ قَدْ أَخَذَ وَلَمْ يَأْكُلْ مِنْهُ شَيْئًا فَكُلْهُ وَإِنْ وَجَدْتَهُ قَدْ قَتَلَهُ فَأَكَلَ مِنْهُ فَلاَ تَأْكُلْ مِنْهُ شَيْئًا - أَوْ قَالَ لاَ تَأْكُلْهُ - فَإِنَّهُ إِنَّمَا أَمْسَكَ عَلَى نَفْسِهِ ». قَالَ عَدِىٌّ فَإِنِّى أُرْسِلُ كِلاَبِى وَأَذْكُرُ اسْمَ اللَّهِ فَتَخْتَلِطُ بِكِلاَبٍ أُخْرَى فَيَأْخُذْنَ الصَّيْدَ فَيَقْتُلْنَهُ قَالَ « لاَ تَأْكُلْهُ فَإِنَّكَ لاَ تَدْرِى أَكِلاَبُكَ قَتَلَتْهُ أَوْ كِلاَبُ غَيْرِكَ ».
4713 ۔ شعبی بیان کرتے ہیں کہ حضرت عدی بن حاتم (رض) نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا : میں اپناتیرچلاکرشکار کر لیتاہوں لیکن شکارتک ایک یادودن کے بعد پہنچتا ہوں ‘ تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جب تم اس شکار پر قابولو اور اس پر تمہارے تیر کے علاوہ کوئی اور نشان یاخراش نہ ہو ‘ تو تم اسے کھالو لیکن اگر تمہیں اپنے تیر کے علاوہ کوئی دوسرازخم یانشان ملتا ہے ‘ تو تم اسے نہ کھاؤ۔ (یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے) اس کی وجہ یہ ہے کہ تمہیں یہ معلوم نہیں ہے کہ تم نے اسے شکار کیا ہے یا کسی دوسرے نے شکار کیا ہے۔ اسی طرح جب تم اپنے کتے کو چھوڑتے ہو اور پھر وہ شکار کو پکڑلیتا ہے اور تم شکارتک پہنچ جاتے ہو ‘ تو تم اسے ذبح کرلو۔ اگر تم اسے ایسی حالت میں پاتے ہو کہ کتے نے شکار پکڑلیا تھا اور خود اس میں سے کچھ نہیں کھایا تھا تو تم اسے کھالو لیکن اگر تم اسے ایسی حالت میں پاتے ہو کہ کتے نے اسے ماردیا اور اس میں سے کچھ کھا بھی لیا تھا تو تم شکارکونہ کھاؤ۔ (یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے) اس کی وجہ یہ ہے کہ اس جانور نے وہ شکار اپنے لیے روکا ہے۔ حضرت عدی (رض) نے عرض کی : میں کتے کو چھوڑتے ہوئے اللہ تعالیٰ کا نام لے لیتاہوں ‘ پھر میرے کتے کے ساتھ دوسراکتابھی مل جاتا ہے ‘ اور وہ سب شکار کرلیتے ہیں اور اسے مار دیتے ہیں ‘ تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ تم اسے نہ کھاؤ ! کیونکہ تمہیں یہ معلوم نہیں ہے کہ تمہارے کتے نے اسے مارا ہے یا دوسرے کتے نے اسے مارا ہے ؟