4728 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدَانَ الصَّيْدَلاَنِىُّ بِوَاسِطٍ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ النَّضْرِ بْنِ حَمَّادٍ الْوَاسِطِىُّ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الأَزْرَقُ عَنْ أَبِى عَمْرٍو الْبَصْرِىِّ عَنْ نَهْشَلٍ الْخُرَاسَانِىِّ عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ مُزَاحِمٍ أَنَّهُ اجْتَمَعَ هُوَ وَالْحَسَنُ بْنُ أَبِى الْحَسَنِ وَمَكْحُولٌ الشَّامِىُّ وَعَمْرُو بْنُ دِينَارٍ الْمَكِّىُّ وَطَاوُسٌ الْيَمَانِىُّ فَاجْتَمَعُوا فِى مَسْجِدِ الْخَيْفِ فَارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمْ وَكَثُرَ لَغَطُهُمْ فِى الْقَدَرِ فَقَالَ طَاوُسٌ وَكَانَ فِيهِمْ رِضًا أَنْصِتُوا أُخْبِرْكُمْ مَا سَمِعْتُ مِنْ أَبِى الدَّرْدَاءِ رضى الله عنه قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « إِنَّ اللَّهَ افْتَرَضَ عَلَيْكُمْ فَرَائِضَ فَلاَ تُضَيِّعُوهَا وَحَدَّ لَكُمْ حُدُودًا فَلاَ تَعْتَدُوهَا وَنَهَاكُمْ عَنْ أَشْيَاءَ فَلاَ تَنْتَهِكُوهَا وَسَكَتَ عَنْ أَشْيَاءَ مِنْ غَيْرِ نِسْيَانٍ فَلاَ تَكْلَفُوهَا رَحْمَةً مِنْ رَبِّكُمْ فَاقْبَلُوهَا ». نَقُولُ مَا قَالَ رَبُّنَا وَنَبِيُّنَا -صلى الله عليه وسلم- الأُمُورُ بِيَدِ اللَّهِ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ مَصْدَرُهَا وَإِلَيْهِ مَرْجِعُهَا لَيْسَ إِلَى الْعِبَادِ فِيهَا تَفْوِيضٌ وَلاَ مَشِيئَةٌ.فَقَامُوا وَهُمْ رَاضُونَ بِقَوْلِ طَاوُسٍ. آخِرُ كِتَابِ السُّنَنِ
4728 ۔ ضحاک بن مزاحم بیان کرتے ہیں : میں حسن بن ابوالحسن ‘ مکحول ‘ عمروبن دینار اور طاؤس ” مسجد خیف “ میں اکٹھے ہوئے ‘ یہ لوگ بلند آواز میں بحث کرنے لگے ‘ یہ لوگ تعزیز کے بارے میں بحث کرنے لگے ‘ اس پر طاؤس بولے جو سب کے نزدیک پسندیدہ شخصیت تھے : تم خاموش ہوجاؤ ! میں تمہیں وہ حدیث سناتاہوں جو میں نے حضرت ابودرداء (رض) کی زبانی سنی ہے ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے : اللہ تعالیٰ نے کچھ چیزیں تم پر لازم قراردی ہیں تو تم انھیں ضائع نہ کرو اور اس نے تمہارے لیے کچھ حدود مقرر کی ہیں ان کی خلاف ورزی نہ کرو ‘ اس نے تمہیں کچھ چیزوں سے روک دیا ہے ‘ تم ان کا ارتکاب کرنے کی کوشش نہ کرو اور کچھ معاملات ایسے ہیں ‘ جن کے بارے میں اس نے بتایا نہیں وہ انھیں بھولا نہیں ہے ‘ تم خود کو اس کا پابندنہ کرو ‘ کیونکہ یہ تمہارے پروردگار کی طرف سے رحمت ہے ‘ اسے قبول کرلو !
(اس کے بعد طاؤس نے یہ کہا :) ہم وہی کہتے ہیں جو ہمارے پروردگار اور ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ہے کہ تمام کام اللہ تعالیٰ کے قبضے میں ہیں ‘ وہی ہرچیز کا حکم دیتا ہے ‘ وہی ہرچیز کا اجر بھی دے گا ‘ بندے کے بس میں کوئی بھی بات نہیں ہے ‘ اس بارے میں بندے کی کوئی مرضی نہیں چلتی ہے۔
اس پر سب لوگ اٹھ کھڑے ہوئے اور ان لوگوں نے طاؤس کے قول کو پسند کیا (یعنی اس کو اختیار کیا) ۔