4746 - حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّازُ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ الرَّاسِبِىُّ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِى أُوَيْسٍ حَدَّثَنَا كَثِيرٌ الْمُزَنِىُّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « لاَ جَلَبَ وَلاَ جَنَبَ وَلاَ يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ ». قَالَ ابْنُ الْفَضْلِ فَسَّرَ لَنَا ابْنُ أَبِى أُوَيْسٍ قَالَ الْجَلَبُ يُجْلَبُ حَوْلَ الْفَرَسِ مِنْ خَلْفِهِ فِى الْمَيْدَانِ لِيُحْرِزَ السُّبْقَةَ وَالْجَنَبُ أَنْ يَكُونَ الْفَرَسُ بِهِ اعْتِرَاضُ جَنُوبٍ فَيَعْتَرِضَ لَهُ الرَّجُلُ بِفَرَسِهِ يُقَوِّمُهُ فَيَحُوزَ الْغَايَةَ .
4746 ۔ بسرمزنی اپنے والد کے حوالے سے اپنے داداکایہ بیان نقل کرتے ہیں کرتے ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے : جلب اور جنب کی کوئی حقیقت نہیں ہے ‘ کوئی شخص کسی دیہاتی کے لیے سودانہ کرے۔
ابن ابواویس نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے کہ جلب سے مراد یہ ہے کہ آدمی گھوڑے سے آگے نکلنے کے لیے پیچھے سے اسے کھینچے اور جنب سے مراد یہ ہے کہ دوسرے گھوڑے کے سامنے رکاوٹ پیداکرے تاکہ وہ جیت نہ جائے۔