669 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمَالِكِىُّ بِالْبَصْرَةِ حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ أَخُو كَرْخَوَيْهِ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ حَدَّثَنَا أَبُو الأَزْهَرِ قَالُوا حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ حَدَّثَنَا أَبِى قَالَ سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ أَيُّوبَ يُحَدِّثُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِى حَبِيبٍ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِى أَنَسٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ احْتَلَمْتُ فِى لَيْلَةٍ بَارِدَةٍ وَأَنَا فِى غَزْوَةِ ذَاتِ السَّلاَسِلِ فَأَشْفَقْتُ إِنِ اغْتَسَلْتُ أَنْ أَهْلِكَ فَتَيَمَّمْتُ ثُمَّ صَلَّيْتُ بِأَصْحَابِى الصُّبْحَ فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ « يَا عَمْرُو صَلَّيْتَ بِأَصْحَابِكَ وَأَنْتَ جُنُبٌ ». فَأَخْبَرْتُهُ بِالَّذِى مَنَعَنِى مِنْ الاِغْتِسَالِ فَقُلْتُ إِنِّى سَمِعْتُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ (وَلاَ تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا ) فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَلَمْ يَقُلْ لِى شَيْئًا. الْمَعْنَى مُتَقَارِبٌ.
669 ۔ حضرت عمرو بن عاص (رض) بیان کرتے ہیں ایک مرتبہ مجھے سردیوں کی رات میں احتلام ہوگیا ، یہ غزوہ ذات السلاسل کی بات ہے ، مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ اگر میں نے غسل کیا تو میں ہلاکت کا شکار ہوجاؤں گا اس لیے میں نے تیمم کرکے اپنے ساتھیوں کو صبح کی نماز پڑھائی بعد میں اس بات کا تذکرہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کیا گیا تو آپ نے دریافت کیا ، اے عمرو تم نے جنابت کی حالت میں اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھا دی ، تو میں نے آپ کو اس وجہ کے بارے میں بتادیا جس نے مجھے غسل کرنے سے روک دیا تھا میں نے عرض کیا میں نے اللہ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے۔ تم اپنے آپ کو قتل نہ کرو بیشک اللہ تمہارے بارے میں بڑا رحم فرمانے والا ہے۔ تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسکرا دیے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھ سے کچھ نہیں فرمایا۔