670 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ حَدَّثَنَا عَمِّى أَخْبَرَنِى عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِى حَبِيبٍ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِى أَنَسٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ أَبِى قَيْسٍ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ كَانَ عَلَى سَرِيَّةٍ وَأَنَّهُمْ أَصَابَهُمْ بَرْدٌ شَدِيدٌ لَمْ يَرَوْا مِثْلَهُ فَخَرَجَ لِصَلاَةِ الصُّبْحِ فَقَالَ وَاللَّهِ لَقَدِ احْتَلَمْتُ الْبَارِحَةَ وَلَكِنْ وَاللَّهِ مَا رَأَيْتُ بَرْدًا مِثْلَ هَذَا مَرَّ عَلَى وُجُوهِكُمْ مِثْلُهُ فَغَسَلَ مَغَابِنَهُ وَتَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلاَةِ ثُمَّ صَلَّى بِهِمْ فَلَمَّا قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- سَأَلَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَصْحَابَهُ « كَيْفَ وَجَدْتُمْ عَمْرًا وَصَحَابَتَهُ لَكُمْ ». فَأَثْنَوْا عَلَيْهِ خَيْرًا وَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى لَنَا وَهُوَ جُنُبٌ فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- إِلَى عَمْرٍو فَأَخْبَرَهُ بِذَلِكَ وَبِالَّذِى لَقِىَ مِنَ الْبَرْدِ وَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ قَالَ (وَلاَ تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ) فَلَوِ اغْتَسَلْتُ مِتُّ فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- إِلَى عَمْرٍو.
670 ۔ ابوقیس جو حضرت عمرو بن عاص کے غلام ہیں وہ بیان کرتے ہیں۔ ایک مرتبہ حضرت عمرو بن عاص (رض) ایک سریہ میں گئے ہوئے تھے اس دوران انھیں سردی کا سامان کرنا پڑا تھا ، اس سے پہلے اتنی سردی کبھی نہیں آئی تھی وہ صبح کی نماز کے لیے تشریف لے جانے لگے تو انھوں نے کہا اللہ کی قسم مجھے کل رات احتلام ہوا تھا اس طرح کی سردی اللہ کی قسم میں نے کبھی نہیں دیکھی پھر انھوں نے اپنے زانوں کو (جہاں احتلام کا نشان موجود تھا) دھویا، نماز کا سا وضو کرکے اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھا دی ، جب وہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے ساتھیوں سے دریافت کیا تم نے عمرو کو کیسا پایا ، اس کا ساتھ کیسا رہا ؟ تو انھوں نے حضرت عمرو (رض) کی بہت تعریف کی (اور یہ بھی بتایا) یارسول اللہ ایک مرتبہ انھوں نے جنابت کی حالت میں ہمیں نماز پڑھا دی تھی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عمرو کو بلایا ، حضرت عمرو نے آپ کو اس صورت حال کے بارے میں بتایا اور عرض کیا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا، تم اپنے آپ کو قتل نہ کرو۔ اگر میں اس وقت غسل کرلیتا میں مرجاتا تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت عمرو کی اس بات پر مسکرادیے۔