718 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الأَشْعَثِ لَفْظًا فِى كِتَابِ النَّاسِخِ وَالْمَنْسُوخِ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحَلَبِىُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ خُرَيْقٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ جَابِرٍ قَالَ خَرَجْنَا فِى سَفَرٍ فَأَصَابَ رَجُلاً مِنَّا حَجَرٌ فَشَجَّهُ فِى رَأْسِهِ ثُمَّ احْتَلَمَ فَسَأَلَ أَصْحَابَهُ هَلْ تَجِدُونَ لِى رُخْصَةً فِى التَّيَمُّمِ قَالُوا مَا نَجِدُ لَكَ رُخْصَةً وَأَنْتَ تَقْدِرُ عَلَى الْمَاءِ فَاغْتَسَلَ فَمَاتَ فَلَمَّا قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أُخْبِرَ بِذَلِكَ فَقَالَ « قَتَلُوهُ قَتَلَهُمُ اللَّهُ أَلاَ سَأَلُوا إِذْ لَمْ يَعْلَمُوا فَإِنَّمَا شِفَاءُ الْعِىِّ السُّؤَالُ إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيهِ أَنْ يَتَيَمَّمَ وَيَعْصِرَ أَوْ يَعْصِبَ عَلَى جُرْحِهِ ثُمَّ يَمْسَحَ عَلَيْهِ وَيَغْسِلَ سَائِرَ جَسَدِهِ ». شَكَّ مُوسَى قَالَ أَبُو بَكْرٍ هَذِهِ سُنَّةٌ تَفَرَّدَ بِهَا أَهْلُ مَكَّةَ وَحَمَلَهَا أَهْلُ الْجَزِيرَةِ. لَمْ يَرْوِهِ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ جَابِرٍ غَيْرُ الزُّبَيْرِ بْنِ خُرَيْقٍ وَلَيْسَ بِالْقَوِىِّ وَخَالَفَهُ الأَوْزَاعِىُّ فَرَوَاهُ عَنْ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَاخْتُلِفَ عَنِ الأَوْزَاعِىِّ فَقِيلَ عَنْهُ عَنْ عَطَاءٍ وَقِيلَ عَنْهُ بَلَغَنِى عَنْ عَطَاءٍ وَأَرْسَلَ الأَوْزَاعِىُّ آخِرَهُ عَنْ عَطَاءٍ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- وَهُوَ الصَّوَابُ. وَقَالَ ابْنُ أَبِى حَاتِمٍ سَأَلْتُ أَبِى وَأَبَا زُرْعَةَ عَنْهُ فَقَالاَ رَوَاهُ ابْنُ أَبِى الْعِشْرِينَ عَنِ الأَوْزَاعِىِّ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَأَسْنَدَ الْحَدِيثَ.
718 ۔ حضرت جابر (رض) بیان کرتے ہیں ایک مرتبہ ہم سفر پر روانہ ہوئے ہم میں سے ایک شخص کو پتھر لگا جس نے اس کے سر کو زخمی کردیا پھر اس شخص کو احتلام ہوگیا۔ اس نے اپنے ساتھیوں سے دریافت کیا ۔ کیا آپ سمجھتے ہیں مجھے تیمم کرنے کی ضرورت ہے ؟ ساتھیوں نے جواب دیا جب تم پانی کے استعمال پر قادر ہو تو ہمارے نزدیک تمہارے لیے رخصت نہیں ہوگی اس شخص نے غسل کیا تو اس کا انتقال ہوگیا ہم نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے آپ کو اس کے بارے میں بتایا گیا تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ان لوگوں نے اسے ماردیا ہے اللہ تعالیٰ ان کو برباد کرے ۔ جب انھیں علم ہیں تھا تو انھوں نے دریافت کیوں نہیں کیا، بیمار شخص کی شفاء سوال کرنے میں ہے اس شخص کے لیے اتنا کافی تھا کہ وہ تیمم کرلیتا (پٹی باندھ ) لیتا اور (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) اپنے زخم پر پٹی لپیٹ لیتا اور اس پر مسح کرلیتا اور باقی جسم کو دھولیتا، یہاں پر شک موسیٰ نامی راوی کو ہے۔
شیخ ابوبکر بیان کرتے ہیں : اس روایت کو نقل کرنے میں اہل مکہ منفرد ہے اور اہل جزیرہ نے اسے محمول کیا ہے انھوں نے اسے عطاء کے حوالے سے حضرت جابر سے روایت نہیں کیا ہے اس روایت کو صرف زبیر نامیراوی نے نقل کیا ہے اور مستند نہیں ہے۔ امام اوزاعی نے اس کے برعکس روایت نقل کی ہے جو عطاء کے حوالے سے حضرت عبداللہ سے منقول ہے۔ امام اوزاعی سے نقل کرنے میں بھی اختلاف کیا گیا ہے ۔
ایک روایت کے مطابق یہ عطاء سے منقول ہے اور ایک روایت کے مطابق ان سے یہ بات منقول ہے مجھے عطاء کے حوالے سے یہ بات پتاچلی ہے اور امام اوزاعی نے اس کے آخری حصے کو مرسل روایت کے طور پر عطاء کے حوالے سے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل کیا ہے اور یہی درست ہے ۔
ابن ابی حاتم بیان کرتے ہیں : میں نے اپنے والد اور شیخ ابی زرعہ نامی راوی سے اس کے بارے میں دریافت کیا تو ان دونوں نے اس بات کا جواب دیا۔ اس روایت کو ابن العشیرین ، اوزاعی کے حوالے سے ، اسماعیل کے حوالے سے ، عطاء کے حوالے سے حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے نقل کیا ہے ان حضرات نے اسے مستند روایت کے طور پر نقل کیا ہے۔