719 - قُرِئَ عَلَى أَبِى الْقَاسِمِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَأَنَا أَسْمَعُ حَدَّثَكُمُ الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا هِقْلُ بْنُ زِيَادٍ عَنِ الأَوْزَاعِىِّ قَالَ قَالَ عَطَاءٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلاً أَصَابَتْهُ جِرَاحَةٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَأَصَابَتْهُ جَنَابَةٌ فَاسْتَفْتَى فَأُفْتِىَ بِالْغُسْلِ فَاغْتَسَلَ فَمَاتَ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ « قَتَلُوهُ قَتَلَهُمُ اللَّهُ أَلَمْ يَكُنْ شِفَاءُ الْعِىِّ السُّؤَالَ ».
719 ۔ عطاء بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن عباس (رض) نے یہ بات بیان کی ہے ایک شخص کو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ اقدس میں زخم لگ گیا اسے جنابت لاحق ہوئی اس نے مسئلہ دریافت کیا تو اسے بتایا گیا کہ اسے غسل کرنا ہوگا، اس نے غسل کیا تو اس کا انتقال ہوگیا۔ اس بات کی اطلاع نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ملی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ان لوگوں نے اسے مار دیا ہے اللہ ان کو برباد کرے کیا بیمار شخص کی شفاء سوال کرنے میں نہیں ہے۔